اگر آپ لوہے کا ایک راڈ لیں اور اسے گرم کریں تو تھوڑی دیر بعد سرخ ہو جاۓ اور کچھ دیر تک اس میں سے روشنی نکلتی رہے گی ایسا کیوں ہے بلکہ ٹنگسٹن دیکھیں جو بلبوں میں استعمال ہوتا ہے جب اس میں کرنٹ گزرتا ہے تو رزسسٹنس کی وجہ سے ٹنگسٹن کی تار گرم ہو جاتی ہے اور پھر روشنی خارج کرنے لگتی ہے ایسا کیوں ہے کہ جب کسی شے کو گرم کیا جاتا ہے تو وہ روشنی خارج کرنے لگتی ہے۔
پوہر نے کہا تھا کہ ایٹم کے مدار(آربٹس) ہوتے ہیں اور الیکٹرون ان مدار میں توانائ خارج کیۓ بغیر حرکت کرتے رہتے ہیں لیکن جب الیکٹرون ایک مدار سے دوسرے مدار میں جاۓ گا تو وہ توانائ یا تو جذب کرے گا یا پھر توانائ خارج کرے گا جب الیکٹران کم انرجی والے مدار چے ذیادہ توانائ والے مدار میں جاۓ گا تو وہ توانائ جذب کرے گا اس کے برعکس جب الیکٹران ذیادہ توانائ والے مدار سے کم توانائ والے میں جاۓ گا تو وہ انرجی خارج کرے گا اور جوں جوں ہم نیوکلیئس کے قریب جاتے ہیں مدار کی توانائ کم ہوتی جاتی ہے اسی لیۓ جب ہم ایٹم کو کیٹائن(مثبت چارج رکھنے والا) میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں توانائ دینا پڑے گی بوہر کی اس بات کو کلیے میں یوں ڈھالا جاتا ہے
E=E₁−E₂
کیٹائن بنانے میں جو ہمیں توانائ دینی پڑی ہے اگر یہی الیکٹرون ایٹم کے اسی مدار میں واپس چلا جاتا ہے اور ایٹم ہو جاتا ہے تو وہی توانائ خارج ہو گی
بوہر سے پہلے پلم پڈنگ تھیوری کا تصور تھا جس کے مطابق ایٹم کی کوئ خاص شکل نہیں ہوتی بے ترتیب شکل میں ہوتا ہے اس کے بعد ردرفورڈ آۓ انہوں نے ایٹم کا ایک نیا تصور دیا لیکن اس تصور کے مطابق ہر ایٹم کو تباہ ہو جانا چاہیۓ وہ اس لیے کہ اس تصور کے مطابق ایٹم کے مدار نیوکلیئس کے ساتھ جڑے ہوۓ ہیں اور ایک ہی مدار ہے جو ایٹم کے گرد کیئ چکر کاٹ رہا ہے اور پھر نیوکلیئس کے ساتھ جا کر مل جاتا ہے اس طرح اس تصوع کے مطابق ہر الیکٹرون کو ایٹم کے گرد حرکت کرتے ہوۓ نیوکلیئس میں جا کر گر جانا چاہیۓ اور اس طرح ایٹم کو آہستہ آہستہ تباہ ہو جانا چاہیے لیکن یہ مفروضہ غلط تھا کیونکہ مادہ تو موجود ہے ردرفورڈ کی اس تحقیق میں بوہر بھی شامل تھا لیکن بعد میں بوہر نے اس تھیوری کو غلط ثابت کر دیا اب بوہر کا مفروضہ بہی غلط ثابت ہو چکا ہے اس میں بھی چند نقائص تھے مثال کے طور پر بوہر کا ماڈل ایٹم میں K,L,M جیسے مدار بتاتا ہے لیکن جدید نظریات کے مطابق ان مداروں کے بھی سب مدار ہیں مثال کے طور پر M مدار میں مزید s,p,d مدار پاۓ جاتے ہیں لیکن بوہر کے نظریۓ نے یہ بات نہیں بتائ تھی اس کے علاوہ بوہر نے بتایا تھا کہ ایٹم دو ابعادی(ڈائمینشن) ہے لیکن جدید نظریات کے مطابق ایٹم تین ابعادی ہے آج کل شورڈنگر کی مساواتیں ایٹم کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
ٹنگسٹن میں سے روشنی کیوں خارج کرتی ہے؟؟
جب ہم ٹنگسٹن میں سے کرنٹ گزارتے ہیں تو کرنٹ ٹنگسٹن کے ایٹمز کو توانائ دیتا ہے اس توانائ کی وجہ سے الیکٹران توانائ حاصل کر کے ذیادہ توانائ والے مدار میں چلے جاتے ہیں لیکن جونہی الیکٹران سابقہ پوزیشن پر آتا ہے تو توانائ خارج کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ توانائ خارج کرتی ہے اور روشن نظر آتی ہے اسی طرح دوسرے ایٹمز کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے کہ الیکٹران ذیادہ توانائ والے مدار میں چلے جاتے ہیں اور جب واپس سابقہ مدار میں آتے ہیں تو توانائ خارج کرتے ہیں لیکن یہ توانائ ہوتی کس شکل میں ہو گی پلانکس نے بتایا تھا کی یہ توانائ انرجی کے پیکٹس کی شکل میں ہو گی بعد میں آئین سٹائن نے ان پیکٹس کو فوٹانز کا نام دیا میکس پلانک نے ایک کلیہ بھی دیا تھا جو کہ یہ ہے:
E=hf
تو بات ختم کرتے ہیں چند چیدہ چیدہ باتیں کہ انرجی اس وجہ سے خارج ہوتی ہے کیونکہ دھات کے ایٹم میں الیکٹران ذیادہ توانائ والے مدار سے کم توانائ والے مدار میں جاتا ہے اور یہ انرجی فوٹانز کی شکل میں ہوتی ہے

بهت اچھے بیٹا keep it up
ReplyDeleteشکریہ
Delete