سورج میں فیوژن ری ایکشن اور چین کا مصنوعی سورج

Anees Ur rehman
0
چین نے سورج بنانے کا کام 2006ء سے شروع کر رکھا ہے اس منصوبے کی کل لاگت ایک ٹریلین ڈالر ہے اس منصوبے کا نام ایکسپیر یمنٹل ایڈوانسڈ سپر کنڈکٹنگ ٹوکامیک(Experimental Advanced Super coducting tokamak) ہے اس لیۓ اسے ایسٹ(East) بھی کہا جاتا ہے چین کا بنایا جانے والا مصنوعی سورج فیوژن ری ایکشن کے اصول پر کام کرتا ہے اور یہی اصول ہمارے سورج میں بہی کارفرما ہے۔
سورج کے اندر بہت ذیادہ ہائیڈروجن موجود ہے یہی ہائیڈروجن فیوژن ری ایکشن کے ذریعے ہیلیئم میں تبدیل ہو رہی ہے اس لیۓ ہیلیئم کی بھی تھوڑی سی مقدار سورج پر پائ جاتی ہے اس کے علاوہ بہت کم مقدار میں دوسری دھاتیں بھی موجود ہیں فیوژن ری ایکشن کی وجہ سے سورج کی کور کا ٹمپریچر بہت ذیادہ ہے کچھ جگہوں پر سورج کی کور کا ٹمپریچر 20 ڈگری سینٹی گریڈ ملین لکھا ہوا ہے لیکن 15 ملین ڈگری سینٹی گریڈ کا نمبر بھی ملا ہے جبکہ سورج کی بیرونی سطح کا ٹمپریچر 6000 ڈگری سینٹی گریڈ ہے سورج پر فیوژن ری ایکشن ہو رہا ہے جس کی مساوات کچھ یوں ہیں:

¹₁H  +  ¹₁H  →  ²₁H  +  ⁰̟₁e

اس ری ایکشن میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ یہاں پر پوزیٹران(اینٹی الیکٹرون) خارج ہو رہا ہے اس بات کو سمجھنے کے لیۓ ویک نیوکلیئر فورس کو سمجھیں اس فورس کی وجہ سے ایک نیوٹران ایک پروٹان اور ایک الیکٹرون نیوٹرینو میں ٹوٹ جاتا ہے:

-¹₀n  →  ¹₁p  +  e

لیکن اس کا الٹ بھی ممکن ہے:

¹₁p  →  ¹₀n  +  ⁰̟₁e

اوپر والے ری ایکشن میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے جس میں ایک پروٹان ٹوٹ جاتا ہے اور ایک نیوٹران کد اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ڈیوٹران بن جاتا ہے یہی ڈیوٹران آگے پھر پروٹیم سے تعامل کرتا ہے:

¹₁H  +  ²₁H  →  ³₂He  +  Q

دو ہیلیئم_3 آپس میں ری ایکٹ کرتے ہیں اور ہیلیئم_4 بناتے ہیں:

³₂He  +  ³₂He  →  ⁴₂He  +  2¹₁H  +  Q

اس تعامل میں چھ پروٹانز نے حصہ لیا اور ہیلیئم کا نیوکلیئس بنایا اس تعامل میں ایک نیوکلیون(پروٹان یا نیوٹران) تقریبا 6.4MeV توانائ خارج کرتا ہے جبکہ فشن ری ایکشن میں ایک نیوکلیون صرف 0.9MeV توانائ خارج کرتا ہے اس فیوژن ری ایکشن میں کل خارج ہونے والی توانائ 25.7MeV ہے یہ سب سورج پر ہونے والا ری ایکشن ہے اگر ہم زمین پر ہی ایک سورج بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں وہی حالات پیدا کرنا ہوں گے جو سورج پر ہیں سورج کی کشش ثقل 274ms-² ہے اس کی کور یا اندرونی سطح کا درجہ حرارت جہاں پر فیوژن ری ایکشن ہو رہا ہے 15 ملین ڈگری سینٹی گریڈ ہے سورج پر پریشر تقریبا 265 بلین بار ہے ہمیں فیوژن ری ایکشن کروانے کے لیۓ اتنا ہی درجہ حرارت کشش ثقل اور پریشر چاہیے ہم سورج کے برار کا درجہ حرارت تو پیدا کر سکتے ہیں اور اتنا ہی پریشر بھی دے سکتے ہیں لیکن اتنی کشش ثقل نہیں دے سکتے اس مسئلے کا حل یوں نکالا گیا ہے کہ ہم سورج سے دس گنا ذیادہ درجہ حررات پیدا کریں گے اضافی درجہ حرارت کشش ثقل کی کمی کو پورا کرے گا لیکن چین نے جو تجربہ کیا ہے اس میں ناکام ہو گیۓ ہیں وہ اتنا درجہ حرارت نہیں دے سکے بلکہ وہ 5 گنا سے بھی کم حرارت دے پاۓ ہیں اور یہ درجہ حرارت تقریبا 70 ملین ڈگری سینٹی گریڈ ہے اس درجہ حرارت کو 17 منٹ تک برقرار رکھ پاۓ ہیں۔

جیسے کہ پہلے میں نے کہا کہ اگر ہم فیوژن ری ایکشن کروانا چاہتے ہیں تو ہمیں بہت ذیادہ حرارت دینی ہو گی جب ہم بہت ذیادہ درجہ حرارت دیں گے تو ظاہر سی بات ہے کہ ہائیڈروجن کے ایٹمز پلازما بن جائیں گے اب اس پلازما کو ہینڈل کرنا بہت مشکل ہے اس کام کے لیۓ دو فیوژن نیوکلیئر ری ایکٹر استعمال کیے جاسکتے ہیں پہلے نیوکلیئر ری ایکٹر میں پلازما کو اس کے جمود(انرشیا) کی وجہ سے ہینڈل کیا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم میں ہم پلازما کو الیکٹرو میگنیٹک فیلڈز سے کنٹرول کرتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے ہم ضد مادہ کو الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ میں قید کر دیتے ہیں اور وہ دیواروں کے ساتھ ٹکرا نہیں سکتا اسی طرح پلازما بھی قید ہو جاتا ہے اور اور دیواروں سے ٹکرا کر حرارت منتقل نہیں کر سکتا اسی فیوژن ری ایکٹر کو چین استعمال کر رہا ہے ہائیڈروجن کے ایٹمز کو حرارت باہر سے بھی دی جاتی ہے اور ری ایکٹر میں پیدا ہونے والے انڈیوسڈ کرنٹ سے بھی حرارت پیدا کی جاتی ہے جب بہت ذیادہ حرارت دی جاتی ہے تو ہائیڈروجن کے ایٹمز آپس میں فیوز ہو جاتے ہیں اور ہیلیئم کا ایٹم بنا دیتے ہیں اس ری ایکشن سے حاصل ہونے والی توانائ فشن ری ایکشن سے 6 گنا ذیادہ ہوتی ہے۔

Image credit:Gemini

ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہے اتنا پیسا ضائع کرنے کا کیا فائدہ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے بہت ذیادہ توانائ حاصل ہوتی ہے اور یہ توانائ بغیر کسی ایسے پروڈکٹس کو تیار کر کے پیدا کی جاتی ہے جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہو اس لیۓ ہم اسے کلین دنرجی کہہ سکتے ہیں فشن کے مقابلے میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ فشن میں بہت سے ریڈیو ایکٹو ایلیمنٹس پیدا ہو جاتے ہیں جن کو ٹھکانے لگانا ایک اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے اس کے برعکس یہ کلین انرجی ہے اور دوسرا فیوژن ری ایکشن میں فشن ری ایکشن کی نسبت ذیادہ توانائ حاصل ہوتی ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)