برین واشنگ کی اصطلاح 1950ء میں متعارف ہوئ یہ اصطلاح اس وقت متعارف ہوئ تھی جب چینی حکومت نے مختلف نظریات کی حامل عوام کو اپنے کنٹرول میں کر لیا تھا برین واشنگ میں کسی دوسرے انسان کا دماغ کنٹرول کر لیا جاتا ہے یہاں پر کنٹرول سے مراد یہ نہیں کہ وہ بندہ آپ کا ہر حکم مانے گا وہ بہت سارے فیصلوں میں آزاد ہو سکتا ہے اسے مکمل طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔
برین واشنگ میں بندے کے دماغ میں اپنی بات بٹھا دی جاتی ہے اور وہ آپ کی بتائ گیئ بات پر عمل کرتا ہے اب اس بندے کے دماغ میں اپنی بات بٹھانے کے لیۓ کیئ ایک طریقے ہو سکتے ہیں جن میں سے چند کا ذکر کروں گا۔
ہسٹیریا کے مریضوں کے لیے سگمنٹ فرائڈ کے دور میں ان کے ایک دوست ڈاکٹر نے عالج متعارف کروایا تھا اس علاج کو ہائیپونسز کے نام سے جانا جاتا ہے ہائیپونسز میں مریض کو مصنوعی نیند دلائ جاتی ہے یہ نیند عام نیند سے کافی مختلف ہوتی ہے اس میں معمول(جس پر ننید کی کیفیت طاری ہے) کا لاشعور حرکت میں آ جاتا ہے اور عامل(ڈاکٹر) جو بھی بات کرے گا وہ معمول کے لاشعور میں بیٹھ جاۓ گی اور بات ایک مرتبہ لاشعور میں بیٹھ جاۓ گی وہ ہمیشہ ہمیشہ لاشعور میں رہے گی اور وہ بات اس کا عقیدہ بن جاۓ گی مثال کے طور پر ایک عامل معمول کو کہتا ہے کہ فلاں بندے سے تم نے نہیں ملنا وہ بندہ تمہارا دشمن ہے تو معمول واقعی اس بندے کو اپنا دشمن ماننے لگ جاۓ گا اور مزے کی بات یہ ہے کہ معمول کو اس بات کا احساس تک نہیں ہو گا کہ وہ اس کو اپنا دشمن کیوں سمجھ رہا ہے اسے معمول کی بات یاد نہیں ہو گی لیکن وہ بات اس کے لاشعور میں ضرور پڑی ہو گی ایک تو یہ طریقہ ہے جس میں آپ بندے سے اپنی مرضی کا کوئ کام کروا سکتے ہیں لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیۓ وہ یہ کہ جب تک معمول ہائیپونسز کے لیۓ راضی نہیں ہو گا تب تک اس پر یہ کیفیت طاری نہیں کی جا سکے گی معمول کا راضی ہونا شرط ہے۔
دوسرا طریقہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے وہ یہ کہ آپ ایک ہی بات بار بار دہراتے رہیں وہ اس بندے کے لاشعور میں خود ہی بیٹھ جاۓ گی لیکن اس طریقہ میں کافی عرصہ درکار ہے۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کو باتوں باتوں قائل کر لیں لیکن یہ اچھا خاصا مشکل کام ہے اس کے لیۓ پلاننگ کرنی پڑے گی کیونکہ سامنے والا آپ کی بات پہ اعتراض کرے گا اور آپ کے پاس ہر سوال کا جواب ہونا چاہیۓ۔
ماضی میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں برین واشنگ کی گیئ ہے مثال کے طور پر ایک مرتبہ ایک پائلٹ کا برین واش کر کے اسے اس کے اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔
پرین واشنگ کے متعلق امریکہ نے اپنی ماہرین نفسیات کی پوری ٹیم بٹھائ تھی لیکن ابھی تک ٹھوس مدلل پیش رفت سامنے نہیں آ سکی لیکن یہ بات ثابت ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے لیکن آپ کے دماغ کو اس طرح ہیک نہیں کیا جا سکتا جیسے فیسبک آئ ڈی یا جی میل آئ ڈی کے ہیک ہونے پر ہوتا ہے ۔
![]() |
| Image credit:Gemini |

بہت خوب...
ReplyDeleteشکریہ
Delete