انسانی دماغ حیرت کا ایک عجوبہ ہے انسانی دماغ مختلف حالتوں پر کام کرتا ہے اور ہر حالت کی فریکوینسی الگ ہوتی ہے اسی فریکوینسی کی بنیاد پر حالت میں فرق کیا جاتا ہے۔
عام حالات میں انسانی دماغ کی فریکوینسی تقریبا 15 سے 30 ہرٹز ہوتی ہے یہ وہ فریکوینسی ہے جس پر انسانی دماغ سوچ و بچار کر سکتا ہے اگر یہ فریکوینسی 30 یا اس بڑھ جاۓ تو اس گو گریٹر گیما سٹیٹ کہتے ہیں اگر یہ فریکوینسی 13 سے 30 ہرٹز کے درمیان رہے تو اس کو بیٹا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں اگر یہ فریکوینسی 8 سے 12 ہرٹز کے درمیان ہو تو اس کو الفا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں اگر یہ فریکوینسی 4 سے 8 ہرٹز کے درمیان ہو تو اس کو تھیٹا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں اور اگر یہی فریکوینسی 4 ہرٹز سے بھی کم ہو جاۓ تو اس ڈیلٹا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں اب میں ان سب حالتوں کو مختصراً بیان کروں گا۔
بیٹا سٹیٹ آف مائنڈ:-
یہ وہ انسانی حالت ہے جس میں انسانی دماغ سوچ و بچار کا عمل سر انجام دے سکتا ہے مختلف مسائل اگر پیش آ جائیں تو حل کر سکتا ہے اسی حالت میں تجزیہ کر سکتا ہے اسی حالت میں انسانی دماغ عموما رہتا ہے اس کے علاوہ اگر فریکوینسی اس اسٹیٹ سے کم ہو جاۓ گی تو سوچنے کا عمل منقطع ہو جاۓ گا انسانی دماغ سوچ نہیں سکے گا۔
الفا سٹیٹ آف مائنڈ:-
یہ سب سے مشہور سٹیٹ ہے کیونکہ اس سٹیٹ میں بہت سارے مسائل کا حل موجود ہے اور اسی اسٹیٹ میں اگر انسانی دماغ آ جاۓ تو انسان دور بیٹھے کسی بھی انسان تک اپنی بات بغیر کسی طبعی رابطے کے پہنچا سکتا ہے لیکن اس پر کیئ ماہرین نفسیات نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کا خیال ہے کہ اگر ایسا ممکن ہے تو بڑی بڑی جاسوس ایجنسیاں اس کا استعمال کر کے اپنے جاسوسوں سے رابطہ کیوں نہیں کرتیں اس کے برعکس وہ دوسرے ذرائع کا سہارا لیتی ہیں الفا سٹیٹ آف مائنڈ میں انسانی دماغ سوچ بچار کا کام چھوڑ دیتا ہے اس لیۓ ڈپریشن وغیرہ کا یہ بہترین علاج سمجھا جاتا ہے پریشانی کا بھی یہی بہترین علاج ہے جب بندہ الفا سٹیٹ آف مائنڈ میں آ جاتا ہے تو سوچیں ختم ہو جاتی ہیں اس لیۓ پریشان ذدہ لوگ اور ڈپریشن کے ستاۓ لوگ آفاقہ محسوس کرتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہی وہ دماغی حالت ہے جس میں الہام ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس اسٹیٹ کو کیسا حاصل کیا جاۓ تو جواب یہ ہے کہ ہم ہر روز الفا اسٹیٹ آف مائنڈ کا تجربہ کرتے ہیں جب آپ سونے لگتے ہیں تو غنودگی طاری ہو جاتی ہے ایسا الفا سٹیٹ آف مائنڈ کی وجہ سے ہوتا ہے اس اسٹیٹ میں جانے کا صرف ایک ہی اصول ہے وہ یہ کہ سوچنا بند کر دیں مراقبہ کے دوران بھی لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔
تھیٹا اسٹیٹ آف مائنڈ میں انسان کو نیند آ جاتی ہے اس اسٹیٹ میں انسان خواب بھی دیکھتا ہے گہری نیند کی سی کیفیت ڈیلٹا اسٹیٹ آف مائنڈ میں طاری ہوتی ہے۔
ایک بات یاد رکھیں کہ یہ اسٹیٹس دن ہم تجربہ کرتے ہیں اور کچھ لوگ الفا اسٹیٹ آف مائنڈ کے خلاف ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس اسٹیٹ میں انسان سوچنے کے قابل نہیں رہتا اور انسان اپنی سوچ کی وجہ سے ہی آگے بڑھ رہا ہے اس لیۓ اسٹیٹ کے لوگ خلاف ہیں۔
![]() |
| Image credit:Gemini |
