اوہم کا قانون ایک سائنسدان جارج سائمن اوہم نے پیش کیا یہ قانون جارج سائمن نے 1827ء میں پیش کیا اس قانون کی اگر سادہ سی تعریف کی جاۓ تو یوں ہو گی:-
"کسی کنڈکٹر میں پوٹینشل ڈفرینس بڑھنے سے کرنٹ بھی بڑھتا ہے"
V∝I
یہاں پر I کرنٹ کو اور V وولٹیج یا پوٹینشل ڈفرینس کو ظاہر کرتا ہے تناسب راست(ڈائریکٹلی پروپورشنل) ختم کرنے سے:
V=IR
R رزسسٹنس کو ظاہر کرتا ہے
اوہم کے قانون کے مطابق کسی کنڈکٹر کے اطرف اگر پوٹینشل ڈفرینس بڑھ جاۓ تو کرنٹ بھی بڑھ جاتا ہے مثال کے طور پر اگر کسی کنڈکٹر کے اطراف پوٹینشل ڈفرینس 2V ہو اور کرنٹ 200mA ہو:
200mA=0.2A
R=V/I
R=2/0.2
R=10 ohm
اگر اس کنڈکٹر کی رزسسٹنس کونسٹنٹ رکھا جاۓ یعنی کہ رزسسٹنس 10 اوہم ہی رہے تو اور ہم پوٹینشل ڈفرینس کو بڑھا کر 3V کر دیں تو کرنٹ 300mA ہو جاۓ گا ریاضیاتی طور پر:
R=10 ohm V=3v I=?
I=V/R
I=3/10
I=0.3A
اس مثال میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب ہم رزسسٹنس کو کونسٹنٹ رکھیں تو پوٹینشل ڈفرینس بڑھنے سے کرنٹ بھی بڑھتا ہے اسی طرح پوٹینشل ڈفرینس کم کرنے سے کرنٹ بھی کم ہوتا ہے لیکن شرط صرف ایک ہے کہ رزسسٹنس کونسٹنٹ ہو۔
یہ گراف صرف اوہمک میٹیریلز کے لیۓ خط مستقیم ہو گا اوہمک میٹیریلز ایسے میٹیریلز ہیں جن کی رزسسٹنس بہت ذیادہ وولٹیج کے لیۓ بھی کونسٹنٹ رہتی ہے یا یوں کہہ لیں اوہمک میٹیریلز اوہم کے قانون کی پیروی کرتے ہیں نان اوہمک میٹیریلز کے یہ گراف خط مستقیم نہیں رہے گا نان اوہمک میٹیریلز ایسے میٹیریلز ہوتے ہیں جن کی رزسسٹنس وولٹیج بڑھنے سے کونسٹنسٹ نہیں رہتی یا سادہ الفاظ میں وہ اوہم کے قانون کے پیروی نہیں کرتے۔
نان اوہمک میٹیریل کی ایک مثال لیتے ہیں بلب میں فلامنٹ استعمال ہوتا ہے فلامنٹ بالکل ایک پتلی تار ہوتی ہے یہ تار دراصل ٹنگسٹن ہے ٹنگسٹن ایک نان اوہمک میٹیریل ہے جب اس کے اطراف وولٹیج بڑھتا ہے تو اس کی رزسسٹنس بھی بڑھ جاتی ہے جس سے کرنٹ کی مقدار کم ہو جاتی ہے اب وولٹیج ذیادہ ہے اور کرنٹ کم اس لیۓ یہ نان اوہمک میٹیریل ہے رزسسٹنس بڑھنے سے یہ گرم ہو جاتی ہے اور آخر کار روشنی خارج کرنے لگتی ہے۔
اس کے برعکس تھرمسٹر بھی ہوتا ہے جس کی رزسسٹنس وولٹیج بڑھنے سے کم ہو جاتی ہے۔

بہت اچھے
ReplyDeleteشکریہ
Delete