| ہماری کائنات میں ہر طرف مادہ موجود ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ضد مادہ بھی موجود تھا لیکن یہ ضد مادہ ہے کیا ہمیں ضد مادہ آج کل نظر کیوں نہیں آتا ہے یہ ضد مادہ ہماری کائنات میں وجود میں کیسے آیا۔ |
جب بگ بینگ کا دھماکہ ہوا تھا اس وقت یہ ضد مادہ وجود میں آیا تھا اسی کے ساتھ مادہ بھی بنا تھا پھر ان کے درمیان جنگ ہوئ اور اس جنگ میں مادہ نے ضد مادہ کو شکست دے دی اور پھر اس مادے سے ستارے و سیارے وجود میں آۓ دراصل جب کائناپ بننے کے پہلے سیکنڈ میں تمام قوتیں الگ ہوگئیں اس وقت ساتھ میں ہگز ذرات بھی وجود میں آیۓ ان ہگز ذرات نے نحیف تفاعل(الیکٹروویک قوت) اور قوی تفاعل(سٹرونگ فورس) کے ذریعے تعامل یا ری ڈ ایکشن شروع کر دیا ان دونوں قوتوں کا رویہ بہت سے معاملات میں ایک جیسا رویہ رکھنے کے باوجود یہ بہت سی جگہوں پر اختلافات رکھتی ہیں جن قوانین پر یہ دونوں ایک جیسا رویہ رکھتے ہیں ان قانون بقاۓ مومینٹم،قانون بقاۓ اینگولر مومینٹم،قانون بقاۓ توانائ،قانون بقاۓ چارج وغیرہ جن قوانین میں ان قوتوں کا رویہ ایک جیسا نہیں ہے ان میں قانون بقاۓ لیپتان نمبر،قانون بقاۓلیپتان فلیور،قانون بقاۓ پیریٹی اینڈ چارج کنجوگیشن وغیرہ ان قوانین پر اختلاف کی وجہ کی وجہ سے کائنات میں مادہ ضد مادہ کی نسبت ذیادہ پیدا ہوا اس کے بعد دونوں نے اینائیلیٹ کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے مادہ اور ضد مادہ تباہ ہو گیا لیکن جیسے کہ میں نے کہا مادہ زیادہ مقدار میں پیدا ہوا اس لیۓ کچھ مادہ بچ ہو گیا جس کی وجہ سے آج ہماری کائنات میں مادہ نظر آتا ہے۔
ہم مادہ اور ضد مادہ میں فرق کیسے کر سکتے ہیں جن ذرات پر چارج ہوتا ہے ان کے ضد ذرات کا چارج الٹ ہوتا ہے مثال کے طور پر الیکٹران پر نفی چارج ہوتا ہے اور اس کے ضد ذرے جس کو پوزیٹران کہا جاتا ہے پر چارج مثبت ہوتا ہے لیکن کائنات میں تو ایسے ذرات بھی پاۓ جاتے ہیں جیسا کہ نیوٹرینو تو ان کے ضد ذرے میں فرق کیسے کر سکتے ہیں ایسے ذرات کو لیپٹان نمبر کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ بیان کیا جا سکتا ہے مطلب یہ ہوا کہ جو لیپٹان نمبر نیوٹرینو کا ہو گا اس کے ضد ذرے کا لیپٹان نمبر اس سے مختلف ہو گا ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیۓ کہ لیپٹان نمبر کی بنیاد پرق ہم چارج رکھنے والے ذرات میں بھی کر سکتے ہیں ان کا لیپٹان نمبر بھی ایک دوسرے سے مختلف ہو گا
ضد مادہ کی پیش گوئ پال ڈائراک نے کی اور آج ہم جانتے ہیں کہ نہ صرف ذرات کے ضد ضد ذرات پاۓ جاۓ ہیں بلکہ ایک ایٹم کا بھی ضد ایٹم بنا سکتے ہیں ضد مادہ کو مصنوعی طور پر بھی تیار کیا سکتا ہے اور اس کام کے لیۓ سرن لیب مشہور ہے یو تجربہ گاہ سوئٹر لینڈ میں موجود ہے اب ہم ضد مادہ کو بنانے کے مصنوعی طریقے کو تفصیل کے ساتھ دیکھیں گے لیکن دس پہلے اینائیلیشن کو میرے خیال سے دیکھ لیتے ہیں کیونکہ اصل تذکرہ مصنوعی طریقے سے مادہ بنانے میں اسی اینائیلیشن کا ہے۔
اینائیلیشن:-
مادہ اور ضد مادہ ایک جگہ دکٹھے نہیں رہ سکتے اگر ان کو ایک ہی جگہ رکھ دیا جاۓ تو یہ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کر کے خود کو تباہ کر لیں گے اور مادہ توانائ میں تبدیل ہو جاۓ گا مادہ کا توانائ میں تبدیل ہونا آئین شتائن کی مساوات E=mc² کے مطابق ہے اگر الیکٹران اور پوزیٹران اینائیلیٹ کر جائیں تو جو توانائ ہمیں حاصل ہو گی وہ 1.02Mev وولٹ ہو گی ہم اس پر ذرات کو تعداد کو تقسیم کر کے وہ توانائ حاصل کر سکتے ہیں جو ایک ذرہ بنانے کے لیۓ درکار ہو گی کیونکہ ہمارے پاس دو ذرات ہیں اس لیۓ:
1.02/2=0.51 Mev
یہ وہ توانائ ہے جو ایک ذرے کو بنانے کے لیۓ درکار ہو گی پیئر پروڈکشن بھی ایک طریقہ ہے جیں میں توانائ مادہ میں تبدیل ہو جاتی ہے اس کی ایک شرط ہے وہ یہ کہ ہمارے نیوکلیئس ہونا چاہیۓ
![]() |
| Image credit:Alifbeyilam |
ضد مادہ کو مصنوعی طریقہ سے بنانا:-
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک کیلے میں پچاس پوزیٹران ہوتے ہیں ناسا کی ایک تحقیق کے مطابق اگر ہم ایک کلوگرام ضد مادہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں تقریبا ایک سو ارب ڈالر درکار ہوں گے اس لیۓ سمجھا جاتا ہے کہ ضد مادہ بنانا بہت مشکل ہے لیکن سرن میں یہ کام ہو رہا ہے اس لیب کے دو حصے ہیں ایک حصے میں ہم اینٹی پروٹان بناتے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں پوزیٹران بناتے ہیں اینٹی پروٹان بنانے کے لیۓ ویکیوم ٹیوب میں دو پروٹانز کو آپس میں ٹکرایا جاتا ہے ان پروتانز کو اتنی انرجی دی جاتی ہے کہ یہ روشنی کی رفتار کے قریب سفر کر سکیں یہاں سے ہمیں اینٹی پروٹان ملتا ہے جبکہ دوسرے حصے میں ہم اینٹی الیکٹران بناتے ہیں اینٹی الیکٹران بنانے کا ایک طریقہ اوپر بھی بیان ہو چکا ہے لیکن یہاں پر پوزیٹران کو ریڈیوایکٹو سالٹ کے ڈیکے سے حاصل کیا جاتا ہے جب پوزیٹران اور اینٹی پروٹان بن جاتے ہیں تو اگلے مرحلہ آتا ہے ان کو کسی ایسی جگہ پر رکھنے کا جہاں پر یہ مادہ کے ساتھ اینائیلیٹ نہ کر سکیں اس کے لیۓ ہم پوزیٹران کو الیکٹرک فیلڈ میں رکھتے ہیں جب کہ اینٹی پروٹان کو میگنیٹک فلیڈ میں رکھتے ہیں اس طرح یہ دونوں فیلڈ میں گھومتے رہتے ہیں لیکن مادہ کے ساتھ اینائیلیٹ نہیں کر سکتے پھر ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جاتا ہے تاکہ ہائیڈروجن کا ایٹم بنایا جا سکے ہم ابھی تک تین سو نو(309) ہائیڈروجن کے ایٹم بنا چکے ہیں اور ان کو تقریبا سولہ منٹ(16) تک محفوظ بھی کیا جا چکا ہے۔
اغراض ومقاصد:-
سائنسدان ہائیڈروجن کے ایٹم کا اخراجی طیف(ایمیشن سپیکٹرم) پڑھنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ سائنسدان دیکھنا چاہتے کہ ہائیڈروجن کے ایٹم اور اس کے ضد ایٹم کے مداروں(آربٹس) میں کیا فرق ہے ان کا ایک مقصد یہ بھی ہے ضد مادہ پر کشش ثقل کا اثر دیکھا جاۓ۔
