ماس ڈیفیکٹ
بائیڈنگ انرجی(نفصالی توانائ ) طبیعات کا ایک موضوع ہے کیونکہ اس ایک توانائ سے طبیعات کے بہت سے موضوع نکل آتے ہیں جیسے کہ ریڈیو ایکٹیویٹی فشن فیوژن وغیرہ ان سب کی وجوہات سمجنے کے لیۓ نفصالی توانائ کو جاننا ضروری ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ جزو کا مجموعہ ہمیشہ کل کے برابر ہوتا ہے لیکن یہ سب ایٹم کے نیوکلیئس میں نہیں ہوتا فرض کریں ہم ایک نیوکلیئس بنانا چاہتے ہیں چلیں ڈیوٹریئم کی مثال لے لیتے ہیں جس میں ایک پروٹان اور ایک نیوٹران ہوتا ہے پروٹان اور نیوٹران کی کمیت نکال لیں جب یہ نیوکلیئس کی شکل اختیار کر جائیں گے تو ان کا انفرادی ماس بننے والے نیوکلییئس سے ذیادہ ہو گا اس کو ماس ڈیفیکٹ کہتے ہیں یہ ماس نیوکلیئس بننے سے پہلے غائب ہو جاتا ہے۔
![]() |
| Image credit:Alifbeyilam |
ڈیوٹریئم کے ماس کو وضاحت کے ساتھ کے دیکھتے ہیں۔
mass of proton=1.6726×10-²⁷Kɡ
mass of neutron=1.6749×10-²⁷Kɡ
total mass=3.3475×10-²⁷Kɡ
یہ وہ کمیت ہے جو کہ نیوکلیئس کی ہونی چاہیۓ لیکن نیوکلیئس کی کمیت اتنی نہیں ہوتی بلکہ اس سے کم ہوتی ہے جو کہ یہ ہے۔
²₁H neuleus mass=3.3435×10-²⁷Kɡ
جو ماس غائب ہو رہا ہے جس کو ماس ڈیفیکٹ کہتے ہیں اس مقدار کچھ یوں ہو گی:
mass defect=(3.3475–3.3435)×10-²⁷Kɡ
mass defect=0.004×10-²⁷Kɡ
mass defect=4×10-³⁰Kɡ
یہ ڈیوٹریئم کا ماس ڈیفیکٹ ہے ماس ڈیفیکٹ کی تعریف یہ ہو گی۔
تجربہ کر کے کسی نیوکلیئس کا نکالا جانے والا ماس نیوکلیئس میں موجود پروٹان اور نیوٹران کے ماس کے مجموعہ سے کم ہوتا ہے غائب ہونے والا ماس ڈیفیکٹ کہلاتا ہے۔
نفصالی توانائ
سوال یہ ہے کہ یہ ماس کہاں چلا جاتا ہے اصل میں یہ ماس نیوکلیئس بنانے کے لیۓ جو توانائی درکار ہوتی ہے اس توانائ میں تبدیل ہو جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ جب تک یہ ماس غائب ہو کر توانائ میں تبدیل نہیں ہوتا تب تک نیوکلیئس نہیں بن سکتا ماس کا توانائ میں تبدیل ہونا آئین سٹائن کی E=mc² مساوت کے مطابق ہے اور اگر ہم اس نیوکلیئس کو توڑنا چاہتے ہیں
![]() |
| Image credit:Alifbeyilam |
تب بھی ہمیں یہی توانائ دینی ہو گی اس توانائ کو نفصالی توانائ یا بائینڈنگ انرجی کہتے ہیں اگر ہم ڈیوٹریئم کی نفصالی توانائ نکالنا چاہیں تو یہ ہو گی۔
E=mc²
m=4×10-³⁰Kɡ
جو ماس غائب ہو رہا ہے وہ توانائ میں تبدیل رہا ہے اس توانائ کو آئین سٹائین کی مساوات سے معلوم کر لیتے ہیں۔
E=(4×10-³⁰)×(3×10⁸)²
E=3600×10-¹⁶J
E=3.6×10-¹³J
یہ نفصالی توانائ جول میں لیکن ہم اسے میگا الیکٹران وولٹ میں تبدیل کریں گے اس کے لیۓ جو چارج ایک الیکٹران پر ہوتا ہے اس کو جول میں موجود توانائ پر تقسیم کر دیں اس طرح:
E=(3.6×10-¹³)÷(1.6×10-¹⁹)ev
E=2250000ev
E=2.25×10⁶ev ∴10⁶=Meɡa so
E=2.25Mev
اس توانائ میں غلطی ممکن ہے۔
ایٹم کے کے اندر نیوکلیئس ہوتا ہے جبکہ پروٹان اور نیوٹران کو نیوکلیونز کہا جاتا ہے جب کہ ایک پروٹان یا ایک نیوٹران کو نیوکلیون کہا جاتا ہے ایٹم کے اندر موجود کل پروٹانز کی تعداد اٹامک نمبر کہلاتی ہے جب کہ پروٹان اور نیوٹران کی مجموعی تعداد کو ماس نمبر کہا جاتا ہے ما۔س نمبر کو A سے ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ اٹامک نمبر کو Z سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
جب ماس ڈیفیکٹ پر ماس تقسیم کیا جاتا ہے تو حاصل شدہ نمبر کو ماس ڈیفیکٹ پر نیوکلیان کہا جاتا ہے:
Mass defect per necleon=∆m÷A
where ∆m=mass defect
اگر اسی ماس نمبر کو نفصالی توانائ پر تقسیم کیا جاۓ تو حاصل شدہ نمبر نفصالی توانائ پر نیوکلیان کہلاتا ہے:
Binding energy per neucleon=E÷A
where E=Binding energy
آئیں ڈیوٹریئم کی نفصالی توانائ پر نیوکلیان نکالتے ہیں:
Binding energy of deutrium=2.25Mev
Mass number=2
Binding energy per neucleon=2.25÷2
E/A=1.125Mev
نفصالی توانائ پر نیوکلیان ہمیشہ کل نفصالی توانائ سے کم ہوتی ہے
پر نیوکلیان نفصالی تؤانائ ماس نمبر دو سے بڑھنا شروع ہو جاتی ہے ماس نمبر ایک سے اس لیۓ نہیں بڑھتی کیونکہ ماس نمبر ہائیڈروجن کے آئسوٹوپ پروٹیئم کا ہے اور پروٹیئم میں صرف ایک پروٹان ہوتا ہے اس لیۓ اس کی بائینڈنگ انرجی بھی صفر اور بائینڈنگ انرجی پر نیوکلیان بھی صفر ہوتی ہے نفصالی توانائ ماس نمبر ایک سے بڑھنا شروع ہو جاتی ہے اور ماس نمبر اٹھاون(58) تک بڑھتی جاتی اور پھر کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور 7.7Mev پر آ کر رک جاتی ہے سب سے زیادہ نفصالی توانائ لوہے(آئرن) کی ہے جو کہ 8.8Mev ہے۔
قیام پزیر اور غیر قیام پزیر عناصر:-
ایسا ایلیمنٹ جس کی بائنڈنگ انرجی پر نیوکلیان ذیادہ ہو گی وہ اتنا ہی ذیادہ سٹیبل ہو گا سب سے ذیادہ قیام پذیر ایلیمنٹ آئرن کا ہے چونکہ اس کی بائینذنگ انرجی پر نیوکلیان ذیادہ ہے اسی طرح سے ایسا عنصر جس کی بائینڈنگ انرجی پر نیوکلیان کم ہو گی وہ اتنا ہی ان سٹیبل یا غیر قیام پذیر ہو گا اسی سٹیبلٹی اور ان ستیبلتی کی بنیاد پر مختلف ایلیمنٹ مختلف قسم کی شعاعیں خارج کرتے ہیں۔

