کوانٹم انٹینگل منٹ
کوانٹم انٹینگل منٹ کوانٹم مکینکس کا بہت دلچسپ موضوع ہے اس کو نیل بوہر نے متعارف کروایا تھا اگر اس موضوع کو مختصراً بیان کیا جاۓ تو یوں ہو گا کہ اگر دو مختلف ذرات کو کی خصوصیات کو انٹینگل کر دیا جاۓ انر پھر ان ذرات کو ایک دوسرے سے بہت دور لے جایا جاۓ چاہے ایک ذرے کو کائنات کے ایک کونے میں رکھ دیں اور دوسرے ذرے کو دوسرے کونے پر رکھ دیں اب اگر آپ ان میں سے کسی ایک ذرے کی بھی اسپن تبدیل کریں تو دوسرے ذرے کی اسپن فوراً تبدیل ہو جاۓ گی یعنی کہ ہم ایک ذرے کی اسپن تبدیل کر رہے ہیں اور دوسرے ذرے کی اسپن خودبخود تبدیل ہو جاتی ہے چاہے ان کے درمیان کتنا ہی ذیادہ فاصلہ کیوں نہ ہو اور ان کے درمیان کسی قسم کا کوئ رابطہ نہیں یہ بہت اچھنبے کی بات ہے کوانٹم انٹینگل منٹ پر آئن سٹائن نے بہت ذیادہ تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
آپ سوچ رہے ہیں ہوں گے اسپن کا مطلب ہے کہ کسی ذرے کا اپنے محور کے گرد حرکت کرنا جی نہیں اسپن کا مطلب یہ ہر گز نہیں بلکہ اسپن ذرے کی ایک اندرونی خصوصیت ہے جس کے بارے میں ہم ابھی نہیں جانتے لیکن جیسے ہی ہم ریاضی کی مساوات کو استعمال کرتے ہیں تو ہمیں اسپن جیسا نمبر ملتا ہے اس لیۓ ہم اس کو کوئ اور نام دینے کی بجاۓ اسپن کا نام دے دیتے ہیں ایک کلیہ سے آپ اور میں بخوبی واقف ہیں اور میٹرک کی سطح پر پڑھ بھی چکے ہیں وہ کلیہ یہ ہے'
L`=mvr=nh/2π
اصل میں یہ کلیہ نیل بوہر نےدیا تھا اور اگر دیکھا جاۓ تو یہ کلیہ اسپن اینگولر مومینٹم کا ہے یہ کلیہ ریاضی استعمال کرتے ہوۓ نکل تو آیا ہے لیکن سائنسدانوں کا نہیں خیال کہ کوئ ذرہ اپنے ایکسز کے گرد حرکت کر سکتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ الیکٹران یا کسی اور ذرے کی اسپن ½ ہے تو دراصل وہ اسپن h اور π کو ختم کر کے اسی کلیۓ سے آتی ہے لیکن یہ اسپن ذرے کی اندرونی خاصیت ہے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے اور اس کو دیسے ہی فرضی طور پر اسپن کا نام دے دیا۔
کوانٹم انٹینگل منٹ کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں فرض کریں ہمارے پاس دو الیکٹران ہیں ان دونوں کی خصوصیات کو ہم انٹینگل کر دیتے ہیں ایک الیکٹران کو زمین پر رکھ دیتے ہیں اور دوسرے کو چاند پر بھیج دیتے ہیں فرض کریں کہ زمین والے الیکٹران کی اسپن کلاک وائز ہے جبکہ چاند والے الیکٹران کی اسپن اینٹی کلاک وائز ہے اگر ہم زمین پر رکھے الیکٹران کی اسپن کو تبدیل کر دیتے ہیں تو چاند پر رکھے الیکٹران کی فوراً اسپن تبدیل ہو جاۓ گی اس معمہ کی سپیڈ سپیڈ آف لائٹ سے زیادہ ہے
ایک اور مثال دیکھتے ہیں پیئر پروڈکشن میں دو ذرات پیدا ہوتے ہیں ایک الیکٹران اور دوسرا پوزیٹران جو کہ اس کا ضد ذرہ ہے یہ دونوں ہی انٹینگلڈ ہوتے ہیں اور ان کی مجموعی اسپن صفر ہوتی ہے اگر الیکٹران کی اسپن اپ ہے تو پوزیٹران کی اسپن ڈاؤن ہو گی یا دوسری ممکنہ صورتحال ہے یہ ہے کہ الیکٹران کہ اسپن ڈاؤن ہے تو پوزیٹران کی اسپن اپ ہو گی دس طرح دونوں ممکنات میں کل اسپن صفر ہی ہو گی۔
اور کل بق یا چارج بھی صفر ہو گا یاد رکھیں دو انٹینگلڈ ذرات پیدا کرنے کا صرف یہی ظریقہ نہیں ہے بلکہ اور بھی ہیں ان دونوں ذرات کو اپ دور دور لے جائیں جب آپ ایک اسپن کو تبدیل کریں گے تو دوسرے کی اسپن فوراً تبدیل ہو جاۓ گی فرض کریں کہ الیکٹران کی اسپن ڈاؤن تھی اور ہم نے اس کی اسپن تبدیل کر کے اپ کر دی ہے تو پوزیٹران کی اسپن بھی تبدیل ہو جاۓ گیکچھ لوگ کہتے ہیں کہ ذرے کو صرف دیکھنے سے ہی اس کی اسپن تبدیل ہو سکتی ہے لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسپن تبدیل نہیں ہوتی بلکہ وہ فکسڈ اسٹیٹ میں آ جاتی ہے لیکن میں بات میں کوئ شبہ نہیں کہ ذرہ کبھی بھی اسپن نہیں کرتا۔
نیل بوہر اور آئن سٹائن کے درمیان ایک سرد جنگ رہتی تھی آئین سٹائین کہتا تھا کہ ھم کوانٹم مکینکس میں کچھ کچھ مِس کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری کوانٹم مکینکس درست نہیں۔
![]() |
| Image credit:Gemini |
Spoky action at distant
جب آئین سٹائین نے کوانٹم انٹینگل منٹ کے بارے سنا تو اس کو موقع مل گیا کہ وہ اپنا بیان سامنے لا سکے آئین سٹائین نے کہا کہ الیکٹرون کے جوڑے کی مثال ہاتھوں کے داستانوں کی طرح ہے تو اگر ایک داستانہ میرے پاس آ جاۓ اور دوسرا میرے دوست کے گھر بھیج دیا جاۓ جب میں اپنے داستانے کو دیکھوں گا تو فرض کریں کہ وہ دائیں ہاتھ کا ہے جو میرے دوست کے گھر ہے وہ بائیں ہاتھ کا ہے لیکن یہ تو پہلے ہی طے ہو چکا تھا کہ میرے دوست کے گھر جو داستانہ ہو گا وہ بائیں ہاتھ کا ہو گا کیونکہ جب میرے پاس دائیں ہاتھ کا داستانہ آیا تو یقینا میرے دوست کے گھر پھر بائیں ہاتھ کا ہی ہو گا اس میں مشاہدے والی کوئ بات نہیں اس طرح آئین ستائن کہتا تھا کہ کوانٹم انٹینگل منٹ نہیں ہوتی اور وہ اسے کہتا تھا "سپوکی ایکشن ایٹ ڈسٹنٹ"
"spoky action at distant"
جبکہ بوہر کہتا تھا کہ نہیں کوانٹم انٹینگل منٹ ہوتی ہے اور آج بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ واقعی انٹینگل منٹ ہوتی ہے
آئین سٹائین 1962ء میں دارفانی سے کوچ کر گیا انٹینگل منٹ کو ثابت کرنے کے لیۓ ایک سائنسدان جان بیل نے ایک مشین کا خاکہ بنایا جس میں ہم انٹینگل منٹ کو دیکھ سکتے تھے اس کے بعد ایک اور سائینسدان جن کا نام جان کلازیئر تھا یہ یہ بات ثابت کرنا چاہتے تھے کہ کوانٹم انٹینگل منٹ نہیں ہوتی اس نے اس مشین کو عملی شکل دی جب تجربہ کیا گیا تو اس کو بہت مایوسی ہوئ کیونکہ انٹینگل منٹ ثابت ہو چکی تھی اسی وقت ایک اور سائنسدان نے بھی انٹینگل منٹ کو ثابت کر دکھایا کونٹم انٹینگل منٹ کو انفارمیشن ٹرانسفر کرنے کے لیۓ استعمال کیۓ جانے کا امکان ہے۔
