کائنات میں کل قوتیں کشش ثقل(گریویٹی)،الیکٹرومیگنیٹک فورس،سٹرونگ نیوکلیئر فورس،ویک نیوکلیئر فورس

Anees Ur rehman
0

کائنات میں کل قوتیں


کائنات کا نظم سائنسی اعتبار سے صرف چار قوتیں چلا رہی ہیں ان قوتیں میں کشش ثقل(گریوٹی)،بقی مقناطیسی قوت(الیکٹرومیگنیٹک فورس)،قوی تفاعل(مضبوط نیوکلیئر قوت) اور نحیف تفاعل(ویک نیوکلیئر قوت) ہیں۔

آئیے ان چاروں کو تفصیل کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

کشش ثقل:-

اگر پتھر کو ہوا میں پھینکیں وہ پتھر تھوڑا سا اونچا جانے کے بعد زمین پر گر جاۓ گا ایسا اس لیۓ ہوتا ہے کیونکہ زمین کشش ثقل رکھتی ہے یہ ہر چیز کو اپنی جانب کھینچتی ہے نیوٹن کا کہنا تھا کہ دو  کمیتوں(ماسز) کے درمیان یہ کشش اتنی ذیادہ ہو گی جتنی ان کی کمیت زیادہ ہو گی اور جتنا ان کے درمیان فاصلہ کم ہو گا نیوٹن کے کشش ثقل کا کلیہ یہ ہے:
F=Gm1m2/r²
لیکن آئن سٹائن نے آ کر اس قانون کو رد کر دیا اور اپنا قانون پیش کیا جس کے مطابق کشش ثقل سپیس ٹائم میں خم ہے جیسے آپ ایک چادر لیں اور اس میں ایک پتھر ڈال دیں تو چادر نیچے کی جانب خم(bend) کر جاۓ گی ویسے ہی کشش ثقل بھی ایک خم ہے اور یہی خم مادہ کو سپیس ٹائم میں راستہ دکھاتا ہے کہ کس چیز کے گرد گھومنا ہے سورج نے نظام شمسی میں سب سے ذیادہ خم ڈال رکھا ہے اسی وجہ سے زمین سورج کے گرد گھومتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ سورج میں زمین جا کر کیوں نہیں گر جاتی اس کا جواب سادہ سے وہ ہے سینٹری پیٹل فورس۔کشش ثقل کے حوالے سے ایک اور بات کہ اس کا اثر تو بہت دور تک ہوتا ہے کئ کلومیٹر تک اس کا اثر رہتا ہے لیکن یہ سب سے کمزور ہے یہ کسی جسم کو اپنی جانب اتنی قوت سے نہیں کھینچتی جتنا کہ باقی قوتیں کھینچتی ہیں۔

برقی مقناطیسی قوت:-


یہ قوت دو بنیادی قوتوں کو ملا کر بنی ہے ایک الیکٹرک فورس اور دوسری مگینیٹک فورس اسی لیۓ انگریزی میں اس قوت کو الیکٹرومگینیٹک فورس کہتے ہیں الیکٹرک فورس چارجز کے درمیان کشش کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ مقناطیسی قوت برق یا چارجز کی حرکت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ان دونوں کے فورس کیریئر فوٹان ہے چونکہ ان دونوں قوتوں کا اثر ایک جیسا ہی ہوتا ہے اور آپس میں ملتی جلتی بھی ہیں اس لیۓ ان قوتوں کو یکجا کر دیا گیا کیمیائ تعاملات(ری ایکشن) میں بھی اسی برقی مقناطیسی قوت کا بھی عمل دخل ہوتا ہے  یہاں تک کہ جتنی بھی موٹریں ہیں یہ بھی اسی قوت کی بنا پر چلتی ہیں یہ قوت کشش ثقل سے ذیاہ طاقتور ہوتی ہے اس کی طاقت کشش ثقل سے 
10³⁶
گنا زیادہ ہوتی ہے۔

قوی تفاعل(سٹرونگ نیوکلئر فورس):-

فرض کریں ہمارے پاس ہیلیئم کا ایٹم ہے ہیلیئم کے ایٹم میں دو پروٹان ہوتے ہیں دونوں پر چارچ مثبت ہوتا ہے لہذا وہ ایک دوسرے پر دفع کی قوت لگائیں گے اور اس طرح ہر ہیلئم کے ایٹم کو ٹوٹ جانا چاہیۓ اسی طرح سے ایک زیادہ پروٹان والے ایٹموں کو ٹوٹ جانا چاہیۓ اور باقی صرف ایک ہائیڈروجن کا ایٹم بچنا چاہیۓ لیکن ہمیں ایسا کہیں بھی نظر نہیں آتا آخر کیوں اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی نیوکلیئس میں اگر ایک سے ذائد پروٹان آ جائیں تو ان کو ایک ہی جگہ پر اکٹھا رکھنے کے لیۓ سٹرونگ فورس میدان میں آتی ہے یہ قوت دو پروٹانز کو جوڑے رکھتی ہے حتی کہ یہی قوت دو ایک جیسے چارج رکھنے والے کوارکس کو ایک ہی ذرے میں مقید رکھتی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ کوارکس کے دور جانے سے قوت بڑھ جاتی ہے اگر کوارکس نزدیک آ جائیں تو یہ قوت کم ہو جاتی ہے جبکہ باقی قوتیں دور جانے سے کمزور پڑ جاتی ہیں  ذرا اندازہ لگائیں کہ اگر صرف یہ ایک قوت نہ ہوتی تو کائنات میں کیا ہوتا صرف ابک ہی ایٹم ہائیڈروجن کا وجود ہوتا اور ہمارا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا کیونکہ ہمارا جسم بھی کئ ایٹموں سے مل کر بنا ہوتا ہے یہ کشش ثقل کی نسبت
10³⁸
گنا زیادہ طاقت رکھتی ہے اور اس کا فورس کیریئر گلوآن ہے اور یہ قوت تمام قوتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

نحیف قوت(ویک نیوکلیئر فورس):-


اگر آپ بیٹا ڈیکے کے عمل کو دیکھیں تو اس کا ڈیکے کابنیادی کلیہ یہ ہے

n ------>p+e+nutrino

اس ڈیکے میں بنیادی طور پر ایک نیوٹران ایک پروٹان،ایک الیکٹران اور ایک نیوٹرینو میں ٹوٹ جاتا ہے ایک بات اور بتا دوں کہ چونکہ نیوٹرینو کا اخراج ایک الیکٹران کے ساتھ ہوا ہے اس لیۓ اسے الیکٹران نیوٹرینو کہتے ہیں یہی الیکٹران نیوٹرینو ہے ڈیکے کے عمل میں ایک بات چونکا دینے والی ہے وہ یہ ہے کہ الیکٹران کا اخراج نیوٹران سے ہوا ہے یعنی کہ اخراج نیوکلیئس سے ہوا ہے ایٹم کی ساخت کے متعلق تھوڑا بہت علم رکھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ الیکٹران نیوکلیئس کے گرد گھومتا ہے لیکن یہاں پر الیکٹران نیوکلیئس میں سے نکل رہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے اس سارے عمل کے پیچھے یہی ویک نیوکلیئر فورس ہے یہ قوت کشش ثقل کی نسبت 
10²⁵
گنا زیادہ مضبوط ہوتی ہے اس قوت کا فورس کیریئر ڈبلیو اور زیڈ بوسون ہیں یہ قوت نہ تو دفع کی اور نہ ہی کشش کی ہے جبکہ باقی تینوں قوتیں یا تو کشش کی ہیں یا دفع کی۔

تاریک قوت(ڈاک قوت):-

یہ پانچویں قوت ہے اس قوت سے آشکار ہوۓ زیادہ وقت نہیں گزرا ہم جانتے ہیں کہ کائنات تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اگر کائنات پھیل رہی تو یقینا کسی قوت کے زیر اثر ہی پھیل رہی ہو گی یہ قوت تاریک یا ڈراک قوت ہی ہے اس قوت کے متعلق ہم ابھی تک اتنا نہیں جانتے جتنا بقیہ قوتوں کے بارے میں جانتے ہیں۔

Image credit:Gemini


قوتوں کا ملاپ:-

کائنات میں ان چار قوتوں کا وجود ہے سائنسدان چاہتے ہیں کہ ان تمام قوتوں کو یکجا کر دیا جاۓ اور ایک ہی قوت کا کلیہ دیا جاۓ ہم کائنات کے نظم کو ایک ہی کلیہ سے بیان کر سکیں لیکن ابھی تک ہم ناکام ہیں لیکن کچھ حد تک کامیابی بھی حاصل کر چکے ہیں دو قوتوں کو ہم یکجا کر چکے ہیں جو کہ برقی مقناطیسی اور ویک نیوکلیئر فورس ہیں اس قوت کو الیکٹروویک قوت کا نام دیا گیا ہے برقی مقناطیسی قوت اور ویک نیوکلئر قوت کو ڈاکٹر عبداسلام،سٹیون وین برگ اور شیلڈن لی گلیشو نے اکٹھا کیا اور اسی وجہ سے تینوں کو 1979ء میں نوبل انعام ملا کچھ لوگوں کا خیال ہے ہم الیکٹروویک قوت اور قوی تفاعل یا سٹرونگ قوت کو اکٹھا کر سکتے ہیں اور اس قوت کو وہ گرینڈیونیفائیڈ قوت کا نام دیتے ہیں  سائنسدان چاہتے ہیں کہ ان سب کو ایک ہی قوت بنا دیا جاۓ لیکن ان تینوں قوتوں کو اکٹھا کرنا ابھی تک مشکل ہو رہا ہے شاید مستقبل میں کامیابی حاصل ہو جاۓ اس کے لیۓ سٹرنگ تھیوری جس کو تھیوری آف ایوری تھنگ(نظریہ عالم کل) بھی کہتے ہیں پیش کیا گیا ہے لیکن یہ نظریہ بھی کئ سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)