ریڈی ایشن کے انسانی جسم پر بہت خطرنات اثرات ہیں بیکوریل ریڈیو ایکٹویٹی کا یونٹ ہے ایک پیکوریل کا مظلب ہے ایک سیکنڈ یا ثانیہ میں ایک ایٹم کا ٹوٹنا۔لیکن یہ ایک بہت چھوٹا یونٹ ہے اس لیۓ میگا بیکوریل اور کلو پیکوریل جیسے یونٹس استعمال کیۓ جاتے ہیں لیکن ریذیو ایکٹویٹی کا ایک اور یونٹ بھی ہے جسے کیوری کہا جاتا ہے اس کی تعریف یوں کی جاتی ہے:
ایک کیوری=3.7×10¹⁰ ایٹمز کا ایک سیکنڈ میں ٹوٹنا
انسانی جسم پر تابکاری کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے کون سی ریڈی ایشن کتنے وقت کے لیۓ لی اور آپ کے جسن کے کتنے ماس نے کتنی ریڈی ایشن جذب کی اس کے لیۓ ایک کلیہ ہے وہ یہ ہے:
D=E÷m
یہاں پر E سے مراد انرجی ہے جبکہ m سے مراد ماس ہے اور D سے مراد وہ خوراک یا ڈوز ہے ریڈی ایشن کی جو جذب ہو چکی ہے اس کو جذب شدہ ڈوذ کہتے ہیں اس کا یونٹ گرے(Gy) ہے ایک گرے کا مطلب ہے توانائ کی فی کلوگرام جذب شدہ توانائ کی مقدار(جو ریڈ ایشن کی شکل میں ہے)۔
میں نے پہلے بتایا ہے کہ انسانی جسم پر نقصان کا انحصار ریڈی ایشن کی کی قسم اور اس وقت پر ہے جس وقت تک وہ بندہ اس کو لیتا رہا لیکن ایک اور فیکٹر بھی ہے وہ یہ کہ کون سی ریڈی ایشن جسم کے کس حصے میں جذب ہوئ ہے مثلا نیوٹران اگر آنکھوں میں جذب ہو تو یہ آنکھوں کو ذیادہ نقصان دے گا بنسبت کسی اور حصے میں جذب ہو اور نقصان دے ایک اور فیکٹر بہت اہم ہے وہ ریلیٹو بائیولوجکل ایفکٹونیس(RBE) یہاں سے ایک کلیہ بھی نکلتا ہے جو کہ ایکوویلنٹ ڈوذ کا ہے اس کا کلیہ کچھ یوں ہو گا:
eD=RBE × D
ایک بات یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ RBE ہر ریڈی ایشن کے لیۓ مختلف ہے بلکہ ایک ہی ریڈی ایشن اگر اس کی انرجی مختلف ہو اس کے لیۓ بھی مختلف ہو گا مثلا ریلیٹو بائیولوجیکل ریڈ ایشن ایک قدرتی طور پر خارج ہونی والی الفا ریز کے لیۓ 10 ہے لیکن اگر یہی الفا رے 30KeV کی انرجی سے خارج ہو تو یہ فیکٹر کم ہو کر صرف ایک رہ جاتا ہے اپنی باپ کی طرف واپس آتے ہیں ایکوویلنٹ ڈوذ کا یونٹ سائیورٹ(sievert) ہے یہاں سے آپ کو سمجھاتا ہوں کہ کیسے ریڈی ایشن انسانی جسم کے لیۓ نقصان دہ ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ زمین پر خلا کی طرف سے بھی ریڈی ایشن بھی آ رہی ہیں یہ ریڈای ایشن ایک سال میں اوسطاً ہمارا ایک انسانی جسم 2 ملی سائیورٹ جذب کرتا ہے اگر یہ مقدار 2 ملی سائیورٹ سے بڑھ کر 3 ہو جاۓ تو انسانی جسم کی اسکن جل جاۓ جو مزدور نیوکلیئر ریڈی ایشن والی جگہوں پر کام کرتے ہیں ان کے لیۓ ایک حد رکھی گیئ ہے کہ اگر ان کا جسم ایک ملی سائیورٹ ریڈی ایشن دیک ہفتے میں جذب کرتا ہے تو ان کو کوئ نقصان نہیں ہو گا۔
اگر دوسری چھوٹی موٹی ریڈی ایشنز کی بات کی جاۓ تو وہ بھی کافی نقصان دیتی ہیں مثال کے طور پر یہ ریڈی ایشن آنکھوں میں موتیے کا سبب بن سکتی ہیں یہ ریڈی ایشن انسانی جسم میں سفید خلیۓ چتم کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے بیماریوں کے حملے بڑھ جاتے ہیں بال بھی گر سکتے ہیں انیمیا جیسی بھی بیماری بھی آ سکتی ہے ان ریڈی ایشن کی وجہ سے بانجھ پن کا مسئلہ بھی جنم لے سکتا ہے اسکن جل سکتی ہے۔
یہ وہ چند ایک نقصانات ہیں لیکن اب ان پر قابو کیسے پایا جایا۔
ذیل میں کچھ احتیاطی تدابیر ہیں جن کو اپنا کر بچا جا سکتا ہے
1.ریڈی ایشن کے سورس گو لیڈ کے ڈبے میں رکھیں
2.ایسے علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں پر ایسے خطرات ہوں
3.ریڈی ایشن کے سورس کو چمٹے سے پکڑیں
4.ہنسی مزاح میں ریڈی ایشن کے سورس کو کسی کی طرف نہ کریں
5.ریڈی ایشن کے سورس پکڑنے والے بندے کو چاہیۓ کہ وہ ربڑ کے داستانے پہنے اور تجربے کے بعد ہاتھ احتیاط کے ساتھ دھو لے۔
اگر احتیاط نہ کی جاۓ تو چرنوبائل جیسے حادثات ہو سکتے ہیں جہاں پر ایک نیوکلیئر حادثے کی وجہ سے مقامی آبادی کو زبردست نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہاں پر چند میٹر تک کے موٹے پتھر بھی پگھل گیۓ تھے اور روک کو اربوں ڈالز کا نقصان اٹھانا پڑا کے کیونکہ بہت ساری سبزیاں اور پھل تلف کرنا پڑے تھے اس لیۓ احتیاط لازمی ہے
