انسان جیسا ہے اسے ویسا بنانے میں اس کے ماضی(ماضی انسان کو ویسے بنانے میں جیسا کہ وہ ہے،میں صرف ایک فیکٹر کا کردار ادا کرتا ہے باقی کئی فیکٹرز بھی اس میں مدد دیتے ہیں) کا بہت اہم کردار ہے اگر ایک انسان بہت غصے والا ہے تو اس کے ماضی کو دیکھ بتایا جا سکتا ہے کہ ایسا کیوں یے؟؟
اسی طرح ایک انسان اگر بہت مغرور ہے تو بھی وہ اسی لیے ہے کہ اس کا ماضی اس کو ایسا بنا رہا یے۔لیکن اس ماضی میں ہے کیا کیا؟؟
اس ماضی میں اس کے اپنے تجربات ہیں،اس کی والدین کی جانب سے تربیت ہے،اور بطور مخلوق اس کا لاکھوں سال پر مشتمل ماضی ہے۔
جب انسان جنگلوں میں رہتا تھا تو اس وقت انسان کے وجود کو کئی جانب سے خطرہ رہتا تھا اس خطرے نے پھر انسان کے اس کی اپنی حفاظت یا بالفاظ دیگر بقا کا جذبہ پیدا کیا جوآج تک موجود ہے اس بقا کے جذبے سے مزید بھی کئی جذبات نے جنم لیا۔اسی طرح بقا کے لیے ضروری تھا کہ انسان جھنڈ کی شکل میں رہے اکیلے انسان کا شکار آسان تھا یہی جھنڈ آج کل دوستی،گروہوں،جماعتوں کی شکل میں موجود یے۔
تو قصہ مختصر یہ کہ جنگلی انسان کے اندر اس کی ضروریات نے کئی جذبات کو جنم دیا یہ چند ایک بنیادی جذبات ہیں جو ہر انسان کے اندر موجود ہیں لیکن ان کو پورا کرنے کا طریقہ مختلف ہے یہی چیز ایک انسان کو دوسرے انسان سے مختلف بناتی یے۔مثال کے طور پر انسان اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہے کچھ لوگ یہی داد شاعری سے وصول کرتے ہیں، کچھ لوگ کلاس میں ذہین ہوتے اور داد وصول کرتے ہیں کچھ لوگ آرٹسٹ بن جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ان سب کا داد وصول کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔
