وقت کے دو رخ ہیں۔عمومی زندگی کے لیے ہمیں وقت ضرورت ہڑتی تاکہ اپنے ایونٹس کے لیے تاریخ طے کر سکیں جیسے کسی کی شادی کس تاریخ کو ہو گی؟ دوسرا اس کا سائنسی رخ ہے جس میں ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک ایونٹ کتنے وقت مکمل ہوا۔
لہذا وقت کا سٹینڈرڈ جو بھی اس کو دو سوالوں کے جواب دینے کا اہل ہونا چاہیے پہلا یہ کہ "کوئ ایونٹ کب ہوا“ دوسرا یہ کہ "کسی ایونٹ کا دورانیہ کتنا تھا“۔
ہر وہ ایونٹ وقت کا سٹینڈرڈ ہو سکتا ہے جو خود کو بار بار دہراتا رہے جیسے رات دن کا چکر۔صدیوں سے انسان نے رات دن کے چکر کو سٹینڈرڈ بناۓ رکھا اور اس ایک چکر کو انسان نے ایک دن کا نام دیا اور ایک دن کو چوبیس حصوں میں تقسیم کر دیا ہر حصے کو ایک گھنٹے کا نام دے دیا اور جوں جوں وقت گزرتا گیا گھنٹے کو بھی منٹوں میں تقسیم کر دیا گیا اور پھر منٹ کو بھی سیکنڈز میں تقسیم کر دیا گیا۔اب ایک سیکنڈ نکالنے کے لیے یا ایک سیکنڈ کی تعریف یوں کی جا سکتی یے:
1 day/24(60×60)=1 s
یہ سٹینڈرڈ تو زمین تک محدود یے زمین سے مریخ یا چاند پر کیا ہو گا؟اور ویسے بھی،ایک دن بھی ہمیشہ کے لیے وقت میں ایک جیسی لمبائ نہیں رکھتا یے تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں یہ چار سالوں میں دن کی وقت میں لمبائ میں تبدیلی کو ظاہر کرتا یے۔
تو پھر وقت کا سٹینڈرڈ کیا ہونا چاہیے؟اس کے لیے 1967 میں سیکنڈ کی ایک پھر تعریف کی لیکن اس بار سیکنڈ کی تعریف اٹامک کلاک کی بنیاد پر ہوئ جو کہ یوں ہے:
"ایک سیکنڈ اس وقت کے برابر ہوتا یے جو سیزیم-139 روشنی خارج کرتا یے اور اس روشنی کا فوٹان 9192631770 مرتبہ اوسیلیٹ کرنے کے لیے لیتا ہے“
یہ اٹامک گھڑیاں اتنا درست وقت بتاتی ہیں کہ اگر دو گھڑیاں 6000 سال تک چلتی رہیں تب جا کر ان میں ایک سیکنڈ کا فرق آۓ گا یہ اٹامک گھڑیاں دنیا بھر میں بھیجی گئی تھیں پاکستان میں یہ سٹینڈرڈ NPSL میں محفوظ یے۔
