نیوٹرینو کی دریافت کا مسئلہ بیٹا ڈیکے سے شروع ہوتا ہے بیٹا ڈیکے کا تعامل اس وقت کے علم کے مطابق کچھ یوں تھا
n → p + e
لیکن یہ مساوات ادھوری ہے اس مساوات میں ایک اور ذرے کی کمی ہے جو کہ نیوٹرینو ہے اور آج کل کی بیٹا
ڈیکے کی مساوات کچھ یوں ہے
n —→ p + e + û
û mean nutrino
لیکن اس وقت نیوٹرینو کا کسی کو کچھ پتا نہیں تھا اصل میں یہ مسئلہ 1930ء کے اوئل میں پیش آیا جب سائنسدان بیٹا ڈیکے کو پڑھ رہے تھے مسئلہ یہ پیش آیا کہ الیکٹران ڈیکے کے وقت جو توانائ لے کر جا رہا ہے وہ سائنسدانوں کے کلیۓ کے مطابق نہیں تھی الیکٹراون کی بیٹا ڈیکے کے بعد توانائ بیٹا ڈیکے سے پہلے والے نیوکلیئس اور بعد میں بننے والے نیوکلیئس کی کمیتوں کے فرق کے برابر ہونی چاہیۓ ایک مثال سے سمجھتے ہیں:
¹²₅B → ¹²₆C + e⁻
کاربن کے پاس چھے پروٹان ہیں اور چھے نیوٹران ہیں جبکہ بوران کے پاس پانچ پروٹان ہیں اور سات نیوٹران ہیں بوران کا ایک نیوٹران پروٹان میں ٹوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے پروٹان کی تعداد پانچ بڑھ کر چھ ہو گئ ہے اور نیوٹران سات سے کم ہو کر چھ ہو گیۓ ہیں اور کاربن کا ایٹم بن گیا ہے یہاں پر جو الیکٹران خارج ہوا ہے اس کی توانائ یوں نکلنی چاہیۓ:
E=∆mc²
ڈیلٹا ایم سے مراد نیوکلیائ کی کمیتوں کا فرق ہے مطلب یہ کہ ہم بوران کے نیوکلیئس کا ماس کاربن کے نیوکلیئس میں سے منفی کریں گے ریاضی کی زبان میں یوں ہو گا:
∆m=mass of nucleus B –mass of nucleus of C
جب ہم الیکٹران کی توانائ نکالتے ہیں تو اسے ہمیشہ ایک جیسا آنا چاہیۓ لیکن یہ ہر بار انہی ایٹمز کے لیۓ بھی مختلف ہوتی ہے اس طرح کچھ انرجی ضائع ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قانون بقاۓ توانائ داؤ پر لگ گیا تھا کچھ سائنسدانوں نے کہا کہ شاید الیکٹران ہمارے مشاہدے میں آنے سے پہلے کچھ انرجی کھو رہا لیکن بار بار کے تجربے سے یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ کسی قسم کی تجرباتی غلطی نہیں ہے نہ صرف قانون بقاۓ توانائ داؤ پر لگ گیا تھا بلکہ قانون بقاۓ اینگولر مومینٹم بھی اسی صورتحال سے دوچار تھا نیل بوہر نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ہم نے ان قوانین کہ خواہ مخواہ سر پر چڑھا رکھا ہے اینگولر مومینٹم کا مسئلہ کچھ اس طرح سے تھا کہ اگر ایک ذرے کی اسپن(اینگولر مومینٹم) ٹوٹنے سے پہلے مکمل عدد ہے جیسے صفر دو یا ایک وغیرہ تو ٹوٹ جانے کے بعد بھی کل اسپن ایک مکمل عدد ہی ہو لیکن یہاں پر بیٹا ڈیکے اس قانون کی پیروی نہیں کر رہا تھا ریاضی کی زبان میں سمجھتے ہیں:
n –→ p + e
½ –→ ½ + ½
یہاں پر اگر دیکھا جاۓ تو دائیں جانب کل اسپن ایک آ رہی ہے لیکن قانون بقاۓ اینگولر مومینٹم کے مطابق اس کو ہاف انٹیگرل یا نصف عدد ہونا چاہیۓ تھا لہذا یہاں پر اس قانون کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے
اسی مسئلے میں ابھی سائنسدان الجھے ہوۓ تھے کہ وولف گینگ پالی نے کہا ہو سکتا ہے الیکٹران کے ساتھ کوئ اور ذرہ بھی خارج ہو رہا ہو اور بقیہ توانائ لے جا رہا ہو یہ ایک خطرناک پیشن گوئ تھی کیونکہ اس وقت کسی نیۓ ذرے کی دریافت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا انھوں نے اس نیۓ ذرے کا تذکرہ ایک خط میں کیا جو انھوں نے اپنے سائنسدان دوستوں لِیز مائیٹنر اور ہانس گائیگر کو 1930 میں لکھا یہ تجویز بہت زیادہ مفروضاتی تھی لیکن اس تجویز نے ریاضیاتی طور پر لا آف کنزرویشن آف انرجی اور لا آف کنزرویشن آف اینگولر مومینٹم کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کو حل کر دیا
اینگولر مومینٹم کا معمہ یوں حل ہوا کہ اگر ہم نیوٹران کے ٹوٹنے سے بننے والے پروڈکٹس میں نیوٹرینو بھی شامل کر دیں تو اس کی اسپن بھی ضرور کچھ نہ کچھ ہو گی جو اینگولر مومینٹم کے مسئلے کو حل کر دے گی مساوات کچھ اس طرح بن جاۓ گی:
n –→ p + e + û
½ –→ ½ + ½ + ½
یہاں پر دائیں جانب ہمارے پاس ایک نصف عدد یا ہاف انٹیگرل ہی آۓ گا اور بائیں طرف نصف عدد ہی ہے اور اس طرح یہ معمہ حل ہو جاۓ گا رہی بات انرجی کی تو وہ نیوٹرینو کچھ نا کچھ توانائ لے کر ضرور خارج ہو گا جس سے قانون بقاۓ توانائ کا مسئلہ بھی حل ہو جاۓ گا پیشن گوئ کے مطابق نیوٹرینو کا ماس پروٹان کے ماس کا صرف ایک فیصد ہونا چاہیۓ ایک بات اور کہ نیوٹرینو کو نیوٹرل کہا گیا کیونکہ اس پر چارج رکھتے تو ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جانا تھا جو کہ قانون بقاۓ برق تھا یعنی قانون بقاۓ چارج۔
1934ء میں ایرین کیوری اور ان کے شوہر فریڈریک نے دیکھا کہ جب انھوں نے ایلو مینیم پر الفا پارٹیکلز کی بوچھاڑ کی تو وہ فاسفرس میں بدل گیا اور فاسفورس فوراً ڈیکے کر کے سلیکون میں بدل گیا مساواتیں اس طرح ہوں گی:
²⁷₅Al + ⁴₂He → ³⁰₁₅P + ¹₀n
³⁰₁₅P –→ ³⁰₁₄Si + e⁺ + û⁺ →beta decay
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اینٹی نیوٹرینو کے ساتھ ایک ایسا ذرہ خارج ہوا ہے جس پر چارج مثبت ہے اور یہ پوزیٹران ہے ایک بات اور کہ یہ بیٹا پلس ڈیکے ہے جس میں نیوٹران کی بجاۓ پروٹان نیوٹران میں تبدیل ہوا ہے مطلب یہ کہ:
p → n + e⁺ + û
اس کا انورس یا الٹ عمل یوں ہو گا
û + p–→ n + e⁺
سائنسدانوں کا خیال تھا اس انورس عمل سے ہم نیوٹرینو کو دریافت کر سکتے ہیں وہ اس طرح سے کہ جب اربوں نیوٹرینو پروٹان کے ساتھ تعامل کریں گے تو اتنے زیادہ نیوٹرینوز کی وجہ کوئ ایک نہ ایک نیوٹران بن جاۓ گا کیونکہ نیوٹرینو مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتا ہے اس طرح نیا آئسو ٹوپ بن جاۓ گا یہ نیا آئسوٹوپ اس بات کی دلیل ہو گا کہ واقعی نیوٹرینو وجود رکھتے ہیں
نیوٹرینو کی پیشن گوئ کو کافی عرصہ ہو چکا تھا لیکن ابھی تک یہ صرف ریاضی کی مساواتوں میں نظر آتا تھا لیکن امریکی آئیر فورس سے ریٹائر ہونے والے فوجی کلائیڈ کووان نے فزکس میں 1949ء میں پی ایچ ڈی کی انھوں نے فریڈرک رائنس کے ساتھ مل کر نیوٹرینو کی دریافت کا کام شروع کر دیا نیوٹرینو بہت ذیادہ مقدار میں درکار تھا کیونکہ ان کا ماس بہت کم ہوتا ہے الیکٹران سے بھی کم اس لیۓ یہ مادے کے ساتھ آسانی سے تعامل نہیں کرتے اربوں میں صرف چند ایک نیوٹرینوز ہی تعامل کرتے ہیں اتنی مقدار یقینا کسی نیوکلیئر ری ایکٹر سے ہی حاصل کی جا سکتی تھی وہ اس طرح سے:
²³⁵₉₂U + ¹₀n → ¹⁴⁰₅₄Xe + ⁹⁴₃₈Sr +3¹₀n
اصل میں جب یورینیم سے نیوٹران تعامل کرتا ہے تو یورینیم-236 بنتا ہے لیکن وہ جلد ہی ان دونوں عناصر میں ٹوٹ جاتا ہے یہ دونوں عناصر بھی آگے بیٹا نفی میں ڈیکے ہو جاتے ہیں یعنی اس طرح:
¹⁴⁰₅₄Xe –→ ¹⁴⁰₅₅Cs + e⁻ + ⁻û
⁹⁴₃₈Sr –→ ⁹⁴₃₉Y + e⁻ + ⁻û
یہاں پر دیکھا جاۓ تو نیوٹرینو کی ایک بہت بڑی مقدار حاصل ہو سکتی ہے ان دونوں سائنسدانوں کو امریکہ کے ایک نیوکلیئر ری ایکٹر میں تجربہ کرنے کی اجازت مل گئ یہ ری ایکٹر امریکہ کی ریاست جنوبی کیولینا میں تھا اس ری ایکٹر کا نام کا سوانح ریور پلانٹ تھا یہاں پر یورینیم-238 سے پلوٹینیم-239 اور پلوٹینیم-238 تیار کی جاتی تھی ان دونوں کے علیحدہ علیحدہ تعاملات ہیں جن مساواتیں یہ ہیں:
پلوٹینیم-239 کے لیۓ
²³⁸₉₂U +¹₀n —→ ²³⁹₉₂U
²³⁹₉₂U –→ ²³⁹₉₃Np + e⁻ + ⁻û
²³⁹₉₃Np –→ ²³⁹₉₄Pu + e⁻ + ⁻û
جب یورینیم-238 سے نیوٹران ٹکراتا ہے تو وہ نیوکلیئس یورینیم-239 میں بدل جاتا ہے یہ آگے اینٹی نیوٹرینو پیدا کرتے ہوۓ نیپچونیم میں تبدیل ہو جاتا ہے یہ بیٹا ڈیکے کے ذریعے پلوٹینیم-239 میں بدل جاتا ہے اور ایک اینٹی نیوٹرینو خارج کرتا ہے
پلوٹینیم-238 کے لیۓ:
²³⁸₉₂U + ²₁H –→ ²³⁸₉₃Np + 2¹₀n
²³⁸₉₃Np –→ ²³⁸₉₄pu + e⁻ + ⁻û
جب یورینیم-238 سے ڈیوٹریم کا جوہری تعامل کروایا جاتا ہے تو نیپچونیم-238 پیدا ہے جو اینٹی نیوٹرینو خارج کرتے ہوۓ پلوٹینیم-238 پیدا کرتا ہے
ان دونوں تعاملات میں بہت ذیاہ مقدار میں نیوٹرینوز مل سکتے ہیں ایک اندازے کے مطابق ایک مربع سنٹی میٹر سے ایک سیکنڈ میں ایک کھرب اینٹی نیوٹرینو گزر رہے تھے۔
نیوٹرینو کی دریافت کا آخری مرحلہ:-
کلائیڈ کووان اور فرریڈرک رائنس نے پانی سے بھرے دو ٹینک لیۓ ان میں تقریباً دو سو لیٹر پانی بھرا گیا پانی بھرنے کا مقصد ہائیڈروجن سے پروٹان لینا تھا دونوں ٹینکوں کو لیکوڈ سنٹیلیٹر سے جوڑ دیا گیا ان ٹینکوں کے اندر لیکوڈ سِنٹیلیٹر بھی نصب تھے تاکہ روشنی کو ویزیبل لائٹ میں تبدیل کیا جا سکے اس کے علاوہ فوٹو ملٹی پلرز بھی نصب کیۓ گۓ تاکہ الیکڑومیگنیٹک ویوز کو الیکٹرک پلسز میں تبدیل کیا جاسکے مختصراً ہونا یہ تھا کہ جیسے ہی پروٹان نیوٹران میں تبدیل ہو گا تو یہ غیر مستحکم نیوکلیئس نے فوٹانز خارج کرنے تھے یہ فوٹانز جب لیکوڈسنٹلیٹر سے ٹکراۓ تو اس ان کی توانائ کم کر دی اس کے بعد جب فوٹانز فوٹوملٹی پلیئرز سے ٹکراۓ تو اس نے فوٹانز کی توانائ تو الیکٹریسٹی میں بدل دیا جب تجربہ کیا گیا تو نتائج بلکل توقعات پر پورے اترے فوٹو ملٹی پلیئرز نے فوٹانز کو ڈیٹیکٹ کر لیا ان فوٹانز کی توانائ 0.51Mev تھی وہ اس کو مزید جانچنا چاہتے تھے اس کے لیۓ انھوں نے پانی کے اندر CdCl₂ کو ڈال دیا وہ نیوٹران کو ذیکے ہونے سے پہلے پکڑنا چاہتے تھے اور کیڈمیم ایک اچھی میٹل ہے جو آزاد نیوٹرانز کو فوری جذب کر لیتی ہے جب کیڈمیم کے ساتھ تجربہ کیا گیا تو نتائج پھر وہی آۓان نتائج سے نیوٹرینو کی موجودگی ثابت ہو رہی تھی کہا جاتا ہے کہ اس تجربے پر کلائیڈ کووان اور فریڈرک نے تقریبا 1371 گھنٹے گزارے اور بابار تجربہ کیا لیکن تجربات نے یہ ثابت کر دیا کہ نیوٹرینو کا وجود ہے اس کے بعد انھوں ںے وولف گینگ پالی کو ٹیلی گرام بھیجا اور بتایا کہ ہم نے آپ کا چھبیس سالہ پرانا نیوٹرینو دریافت کر لیا ہے اس وقت وولف گینگ پالی سرن لیب کی ایک تقریب میں شریک تھے انھوں نے یہ ٹیلی گرام سارے حاضرین کو پڑھ کر سنایا اور جوابی خط میں صرف اتنا لکھا:
"Every thing comes to him, who knows how to wait".(wolf gang pauli)
![]() |
| Image credit:Gemini |
