فشن ری ایکشن میں اوسطاً 200Mev انرجی ایک یورینیئم کے نیوکلیئس سے پیدا ہوتی ہے یہ توانائ فریگمنٹس کی کائ نیٹک انرجی کی صورت میں ہوتی ہے یہ فریگمنٹس آپس میں بھی ٹکراتے ہیں اور یورینیئم کے ایٹم سے بھی اس طرح یہ توانائ حرارت کی شکل میں آ جاتی ہے لیکن کیا فشن ری ایکشن اتنا بہت سادہ ہے کہ اسسے توانائ آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے تو جواب ہے نہیں یہ توانائ حاصل کرنا کافی مشکل کام ہے اس توانائ کو نیوکلیئر ری ایکٹر سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
نیوکلیئر ری ایکٹر کا اہم ترین حصہ کور ہے یہاں پر وہ فیول رکھا جاتا ہے جو ہمیں توانائ دیتا ہے یہ فیول سلنڈر شکل کی ٹیوبز میں رکھا جاتا ہے دو سو ٹیوبز کی ایک اسمبلی ہوتی ہے اور پھر اسمبلی کی تعداد اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کتنی توانائ حاصل کرنا چاہتے ہیں پہلے پہل بطور فیول یورینیئم استعمال کیا جاتا تھا اس فیول میں یورینیئم_235 کی مقدار 2 سے 4فیصد کے درمیان ہوتی تھی یاد رہے کہ قدرتی طور پر یورینیئم میں یورینیئم_235 کی مقدار صرف 0.7 فیصد ہوتی تھی لیکن آج کل پلوٹونیم_239 اوریورینیئم_233 استعمال کیا جاتا ہے فیول کی ٹیوبز کو بھاری پانی جو کہ ہائیڈروجن کے پروٹیم آئسوٹوپ کے بجاۓ ڈیوٹریئم(²₁H) یا ہائڈروکاربن میں رکھا جاتا ہے بھاری پانی یا ہائڈروکاربن کو ماڈریٹر کہتے ہیں ان ماڈریٹر کا کام فشن ری ایکشن شروع ہونے کے بعد نکلنے والے نیوٹرانز کی انرجی کو کم کرنا ہوتا ہے تاکہ کم انرجی کے نیوٹران سے ری ایکشن کو آگے خودبخود جاری رکھا جا سکے لہذا ماڈریٹر کا صرف ایک ہی کام ہوتا ہے اور وہ نیوٹران کی توانائ کو کم کرنا ہوتا ہے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ میں بھاری پانی کو بطور ماڈریٹر استعمال کیا جاتا ہے۔
فشن ری ایکشن جب ایک بار شروع ہو جاتا ہے تو اس سے نکلنے والے نیوٹران تعامل کو مزید تیز کر دیتے ہیں کیونکہ ٹوٹ جانے کے بعد بچنے والے یورینیئم کے ایٹمز کے لیۓ ذیادہ مفدار میں نیوٹران آ جاتے ہیں اگر اس کی سپیڈ کو کنٹرول نہ کیا جاۓ تو یہ تعامل خودبخود ہی جاری رہتا ہے لہذا اگلا مرحلہ تعامل کو کنٹرول کرنے کا ہے اس کام کے لیۓ کیڈمیئم اور بوران کا استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ ان کی نیوٹران جذب کرنے کی صلاحیت ذیادہ ہوتی ہے اس طرح تعامل کو آگے جاری رکھنے کے لیۓ صرف ایک نیوٹران کا استعمال کیا جاتا ہے مثال کے طور پر ہمارے پاس دس یورینیئم کے ایٹمز ہیں جب پہلا یورینیئم کے ایٹم ٹوٹ جاۓ گا تو تین نیوٹران خارج ہوں گے جن کی انرجی ماڈریٹر کے ذریعے کم ہو جاۓ گی اگر ہم اس تعامل کو کنٹرول نہ کریں تو پھر تین یورینیئم کے ایٹم ٹوٹیں گے اور پھر مزید تین یورینیئم کے ایٹمز سے نو نیوٹران خارج ہوں گے اس طرح مزید نو ایٹم ٹوٹیں گے اور اس طرح یہ ری ایکشن تیز ہوتا جاۓ گا جس کو کنٹرول کرنا لاذمی ہو جاتا ہے کیونکہ اس تعامل سے اتنی ذیادہ توانائ خارج ہوتی ہے کہ سنبھالنا مشکل ہو جاتی ہے اور پھر ہم بوران یا کیڈمیئم سے ری ایکشن کو کنٹرول کرتے ہیں اگر کوئ خرابی ہو جاۓ یا پھر ری ایکٹر کا کوئ کام کرنا ہو تو کیڈمیئم یا بوران کے راڈذ کو یورینیئم پر گرا دیا جاتا ہے جس سے یہ راڈذ سارے نیوٹرانز کو جذب کر لیتے ہیں اور ری ایکشن رک جاتا ہے۔
یہ سب نیوکلیئر ری ایکٹر کے کام کے بارے میں تھا کہ فشن ری ایکشن کو کیسے ہینڈل کیا جاتا ہے اب بات کرتے ہیں کہ فشن تعامل سے ہونے والی کو کیسے استعمال میں لایا جاتا ہے جب فشن ری ایکشن سے حرارت کی صورت میں توانائ ملنے کی وجہ سے کور کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور یہ درجہ حرارت 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو جاتا ہے تو اس توانائ کو پانی کو بھاپ میں تبدیل کرنے کے لیۓ استعمال کیا جاتا ہے جس کے بعد بخارت ٹربائن کو چلاتے ہیں اور ٹربائن سے بجلی پیدا کی جاتی ہے جب بخارت ٹربائن سے آتے ہیں تو ان کا درجہ حرارت تقریبا300 سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے اس کے بعد بخارات کو ٹھنڈا کڑ لیا جاتا ہے اور بخارات پانی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
| اس سارے عمل کے بعد ایک اور پیچیدہ مرحلہ آتا ہے اور وہ مرحلہ نیوکلیئر ری ایکثر کی باقیات کو ٹھکانے لگانا ہے باقیات میں پہت ذیادہ تابکار عناصر شامل ہوتے ہیں جو بہت ذیاہ نقصان دہ ہوتے ہیں ان باقیات کو کسی سمندر دریا یا ذمین میں دفنایا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ ارد گرد کے ماحول پر بھی مضر اثر رکھتی ہیں ان باقیات کو ٹھکانے لگانے کا تو آج تک کوئ بہترین طریقہ دریافت نہیں ہو سکا لیکن ایک طریقہ ہے کہ باقیات کو کسی خشک پرانی نمک کی چٹان میں دفنا دیا جاۓ۔ |
