کرنٹ بنیادی طور پر چارجز کا بہاؤ ہے وہ چارج مٹبت بھی ہو سکتا ہے اور نفی بھی یہ چارج کنڈکٹر کے اندر بہتا ہے اور بیٹری کے ایک ٹرمینل سے نکلتا ہے اور دوسرے ٹرمینل میں سے پھر بیٹری کے اندر داخل ہو جاتا ہے لیکن چارجز کی مقدار کونسٹنٹ رہتی ہے یعنی کہ چارجز استعمال نہیں ہوتے بس ان کا کام توانائ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ہے کرنٹ کی تعریف یوں کی جاتی ہے۔
"چارجز کے بہاؤ کی شرح کو کرنٹ کہتے ہیں"
کرنٹ کا کلیہ یہ ہے۔
I=Q/t
یہاں پر Q سے مراد چارج ہے اور t سے مراد وقت کرنٹ کا یونٹ ایمپیئر ہے ایک ایمپیئر کا مطلب ہے کہ کسی جگہ سے ایک سیکنڈ میں ایک کولمب چارج گزرے جبکہ ایک کولمب 6.25×10¹⁸ الیکٹران پر مشتمل ہوتا ہے اس لیۓ ایک ایمپیئر بہت بڑا یونٹ ہے اور چھوٹے یونٹ مائیکرو ایمپیئر وغیرو استعمال ہوتے ہیں۔
دھات کے ایٹمز میں کچھ الیکٹران آزادنہ حرکت کر رہے ہوتے ہیں اگر ہم دھات کا ایک چھوٹا سا حصہ لیں فرض کریں کہ ایک سینٹی میٹر لے لیتے ہیں تو ایک سینٹی میٹر میں جتنے الیکٹران آگے کو جارہے ہوں گے اتنے ہی الیکٹران اس کی مخالف سمت میں بھی حرکت کر رہے ہوں گے یعنی کہ اتنے ہی الیکٹران پیچھے آ رہے ہوں گے اور اس طرح کل کرنٹ صفر ہو گا اس لیۓ جب دھات کو کسی فیلڈ میں رکھا جاتا ہے تو یہ أزاد الیکٹرانز ایک خاص سمت میں حرکت کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے میٹلز میں کرنٹ بہنے لگتا ہے یعنی کہ میٹلز میں کرنٹ نفی چارجز کی وجہ سے بہتا ہے جبکہ الیکٹرولائٹس میں کرنٹ مثبت چارجز کی وجہ سے بہتا ہے الیکٹرولائٹس سے مراد ایسے سلوشنز ہیں جن میں سے کرنٹ بہ سکتا ہے۔
کرنٹ کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں لیکن اس سے پہلے تین قسم کی تاروں کا تعارف کروا دوں ایک تار جس سے ہر کوئ واقف ہے وہ ہے ارتھ وائر اس میں کرنٹ نہیں ہوتا ارتھ وائر کو گھر کے قریب زمین میں دبایا جاتا ہے جیسے ہی کسی آلہ کے بیرونی میٹل خول میں کرنٹ آتا ہے یہ ارتھ وائر اس کرنٹ کو زمین میں بھیج دیتی ہے جس سے صارف محفوظ رہتا ہے دوسری تار لائیوہوائر ہوتی ہے اس تار میں کرنٹ بہہ رہا ہوتا ہے اور یہ کرنٹ کو منبع سے آلے تک لے جاتی ہے جبکہ تیسری وائر نیوٹرل وائر ہوتی ہے نیوٹرل وائر کرنٹ کو واپس لے جاتی ہے لائیو وائر اور نیوٹرل وائر کے درمیان 220V سے لے کر 240V تک کا پوٹینشیل ڈفرینس ہوتا ہے۔
اب مثال سمجھتے ہیں فرض کریں ہم نے ایک بلب کو بیٹری کے ساتھ لگا دیا اب بیٹری میں کرنٹ پازیٹو ٹرمینل سے نیگیٹو ٹرمینل کی طرف حرکت کرتا ہے کرنٹ پازیٹو ٹرمینل سے نکلے گا بلب کو توانائ دے اور نیگیٹو ٹرمینل کے ذریعے بیٹری کے اندر دوبارہ داخل ہو جاۓ گا اگر پھر دوبار چارج کو نیگیٹو ٹرمینل سے پازیٹو ٹرمینل تک لانے کے لیۓ چارج کرنا پڑے گا اور پھر کرنٹ دوبارہ بہنا شروع ہو جاۓ گا یہ ایک مکمل(کمپلیٹ) سرکٹ ہے۔
![]() |
| Image credit:Gemini |
اس مثال سے بہت سارے سوالوں کے جواب حاصل کیۓ جا سکتے ہیں یہاں سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جب پرندے بجلی کی تاروں پر بیٹھتے ہیں تو ان کو کرنٹ کیوں نہیں لگتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ سرکٹ مکمل نہیں ہوتا کیونکہ پرندے صرف ایک تار پر بیٹھے ہوتے ہیں چاہے وہ کرنٹ لے آنے والی ہو یا لے جانے والی۔لیکن جیسے ہی وہ دوسری تار کے سبتھ ٹچ کرتے ہیں بن کے جسم سے کرنٹ گزرنے لگ جاتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔
اب میں آپ کو بتاتا ہوں دلچسپ نمبر 0.001 ایمپیئر کے کرنٹ کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے 0.005 ایمپیئر کا کرنٹ تکلیف ثابت ہو سکتا ہے 0.010 ایمپیئر مسلز میں غیر ارادی طور پر ارتعاش پیدا کر سکتا ہے 0.015 ایمپیئر مسلز کو بے قابو کر سکتا ہے جبکہ 0.070 ایمپیئر کا کرنٹ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
