سیمی کنڈکٹر کو دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک این ٹائپ سیمی کنڈکٹر اور دوسرا پی ٹائپ سیمی کنڈکٹر۔ این ٹائپ سیمی کنڈکٹر کو پینٹا ویلنٹ ایلیمنٹ کے ساتھ ڈوپ کیا گیا ہوتا ہے اور پی ٹائپ سیمی کنڈکٹر کو ٹرائ ویلنٹ ایلیمنت کے ساتھ ڈوپ کیا گیا ہوتا ہے این ٹائپ سیمی کنڈکٹر میں ایک فری الیکٹران ہوتا ہے جبکہ پی ٹائپ سیمی کنڈکٹر میں ایک ہول ہوتا ہے جب این ٹائپ اور پی ٹائپ سیمی کنڈکٹر کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو ان کے جنکشن کے آس پاس ایک ریجن میں بن جاتا ہے جس کو ڈپلیشن ریجن کہتے ہیں اصل میں جنکشن کے اردگرد الیکٹران آزادنہ حرکت کر رہے ہوتے ہیں یہی الیکٹران پی ٹائپ میں جا کر ڈفیوز ہو جاتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ الیکٹران اپنے ایٹم کو چھوڑ کر دوسری طرف چلا جاتا ہے اس طرح ڈپلیشن ریجن کی پی ٹائپ والی طرف نیگیٹو چارج ذیادہ ہو جاتا ہے اور این ٹائپ میں پاذیٹو چارج ذیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ الیکٹران جب ایٹم سے نکل جاتا ہے تو اس پر مثبت چارج آ جاتا ہے اور یہ جگہ نیوٹرل بن جاتی ہے اسی کو ڈپلیشن ریجن کہتے ہیں۔
جب ذپلیشن ریجن بن جاتا ہے تو یہ الیکٹران کو مزید پی ٹائپ میں ڈفیوز ہونے سے روکتا ہے اس طرح ڈپلیشن ریجن کے دونوں اطرف پی ٹائپ اور این ٹائپ سیمی کنڈکٹر موجود رہتے ہیں اور ان کے درمیان ایک پوتینشل بیریئر بن جاتا ہے یہی پوٹینشل بیریئر مزید الیکٹران اور ہول کے ڈفیوذ ہونے سے روکتا ہے اس پوٹینشل بیریئر کی ایک خاص قیمت ہوتی ہے جو ہر ایلیمنٹ کے لیۓ مختلف ہوتی ہے مثلاً سلیکان کے لیۓ اس کی قیمت 0.7V ہے اور جرمینیم کے لیے 0.3V ہوتی ہے اگر ہم مزید الیکٹران اور ہول کو ڈفیوذ کروانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس اتنی انرجی ہونی چاہیۓ تب ہی وہ اس پوٹینشل پیریئر کو کراس کر سکیں گے پی این جنکشن کو ڈائیوڈ سیمی کنڈکٹر بھی کہتے ہیں۔
![]() |
| Image credit:Gemini |
اگر ہم ان کو ایک بیٹری کے ساتھ جوڑ دیں تو ہمارے پاس ممکنات کہ ہم ان کو بیٹری کے ساتھ کس طرح جوڑ سکتے ہیں اور دونوں میں کرنٹ بھی مختلف بہتا ہے۔
1.فارورڈ بائیزڈ 2.ریورس بائیزڈ
فارورڈ بائیذڈ میں بےٹری کا پوزیٹو ٹرمینل پی ٹائپ کے ساتھ اور بیٹری کا نیگیٹو ٹرمینل این ٹائپ سیمی کنڈکٹر کے ساتھ لگایا جاتا ہے جبکہ ریورس بائیذڈ میں اس کے برعکس ہوتا ہے یعنی کہ نیگیٹو ٹرمینل کو پی ٹائپ اور پازیٹو ٹرمینل کو این ٹائپ کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔
فارورڈ بائیذڈ:-
اس میں پازیٹو ٹرمینل پی ٹائپ اور نیگیٹو ٹرمینل این ٹائپ کے ساتھ لگایا جاتا ہے اس طرح این ٹائپ سیمی کنڈکٹر کے فری الیکٹران کو مل بیٹری سے توانائ جاتی ہے جونہی اس کی توانائ پوٹینشل بیریئر سے ذیادہ ہو گی الیکٹران ڈپلیشن ریجن کو کراس کرتے ہوۓ ہول سے جا ملے گا اور آہستہ آہستہ الیکٹران کے ڈپلیشن ریجن کراس کرنے کی تعداد ذیادہ ہوتی جاۓ گی اور اور فاورڈ بائیذڈ پی این جنکشن میں چند ملی ایمپیئر کا کرنٹ بہنا شروع ہو جاۓ گا یہ کرنٹ کی بہت بڑی مقدار ہے۔
ریورس بائیزڈ:-
ریورس بائیزڈ میں بیٹری کا پاذیٹو ٹرمینل این ٹائپ اور نیگیٹو ٹرمینل پی ٹائپ سیمی کنڈکٹر کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اس میں پاذیٹو ٹرمینل این ٹائپ کے فری الیکٹران کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے جس کی وجہ سے این ٹائپ میں مثبت چارجز کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے اور دوسری طرف پی ٹائپ میں نیگیٹو ٹرمینل ہول کو کھینچ لیتا ہے جس کی وجہ سے پی ٹائپ میں مثبت چارجز کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے اور دس طرح ڈپلیشن ریجن بڑھتا جاتا ہے اس طرح کرنٹ کا بہاؤ ناممکن ہوتا جاتا ہے لیکن پی ٹائپ میں سے تھوڑے سے الیکٹران این ٹائپ میں آ جاتے ہیں اس کو لیکج کرنٹ کہتے ہیں ریورس بائیذڈ کی رزسسٹنس انتہائ ذیادہ ہوتی ہے جیسے جیسے ریورس وولٹیج پڑھتا ہے اسی طرح پی ٹائپ میں موجود آئینز کی پاس الیکٹرانز کی توانائ میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پھر چارجز یا الیکٹرانز کی بہت بڑی تعدادہایوہٹائپ میں چلی جاتی ہے اور کرنٹ بہت تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے۔
