ٹھوس مادہ میں سے کیسے کرنٹ کیسے گزرتا ہے ٹھوس کو کرنٹ کے بہاؤ کے لحاظ سے تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلی کنڈکٹر دوسری انسولیٹر اور تیسری سیمی کنڈکٹر کچھ ٹھوس ایسے ہیں جن میں کرنٹ بآسانی گزر جاتا ہے کیوکہ رزسسٹنس کم ہوتی ہے جیسے کہ لوہا وغیرہ اور کچھ ٹھوس ایسے ہیں جن میں سے کرنٹ گزر ہی نہیں سکتا ہے جیسا کہ لکڑی،ربڑ وغیرہ کچھ ٹھوس ایسے ہیں جن میں سے کرنٹ درمیانی میں مقدار میں گزرتا ہے جیسے کہ جرمینیم اور سلیکون وغیرہ۔
بوہر نے کہا تھا کہ ایٹم کے مدار ہوتے ہیں اور ہر مدار کی اپنی ایک خاص انرجی ہوتی ہے اور جس الیکٹران کی انرجی جس مدار کی توانائ کے برار ہو گی وہ اسی مدار میں رہے لیکن الیکٹران دو مدار کے درمیان نہیں رہ سکتا لیکن بعد میں یہ نظریہ ناکام ہو گیا ہے انر پھر انرجی بینڈ تھیوری آئ۔
جب کوئ ایٹم خلا میں اکیلا ہوتا ہے تو اس کے مدار ایک خاص دنرجی ہوتی ہے لیکن جیسے ہی ایٹم دوسرے ایٹمز کے درمیان آپا ہے تو اس کے مدار مزید چھوٹے چھوٹے بینڈز میں تقسیم ہو جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایٹمز کے بیرونی الیکٹران پر دوسرا قریبی ایٹم کا نیوکلیئس بھی کشش کی قوت لگاتا ہے ویلنس الیکٹران کسی بھی ایٹم کے بیرونی آخری الیکٹران ہوتے ہیں ان کےہعد مزید الیکٹران نہیں ہوتے ویلنس الیکٹران جس انرجی کے مدار میں ہوتے ہیں اس کو ویلنس بینڈ کہتے ہیں ویلنس بینڈ کے بعد ایک اور بینڈ ہوتا ہے جسے کنڈکشن بینڈ کہتے ہیں کنڈکشن میں جو بھی الیکٹران ہو گا اس کی فری الیکٹران تصور کیا جاۓ گا کنڈکشن بینڈ اور ویلنس بینڈ کے درمیان جو توانائ کے فرق ہے اس کو فاربڈن انرجی گیپ کہتے ہیں ویلنس بینڈ سے نیچے تمام مدار الیکٹران سے پُر ہوتے ہیں۔
ویلنس بینڈ یا تو مکمل طور پر الیکٹران سے پُر ہوتا ہے یا اس میں آنے والے الیکٹران کی تعداد آدھی ہو گی جب کہ کنڈکشن بینڈ میں یا تو کچھ الیکٹران ہوں گے یا وہ مکمل طور پر خالی ہو گا لیکن فاربڈن گیپ مکمل طور پر خالی ہو گا اس میں الیکٹران نہیں سما سکتے۔
ویلنس پینڈ،فاربڈن گیپ اور کنڈکشن بینڈ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا میٹیریل بجلی گزنے دے گا یا نہیں یا وہ سیمی کنڈکٹر ہو گا۔
ٹھوس کنڈکٹر کا ویلنس بینڈ اور کنڈکشن بینڈ اوور لیپ کر رہے ہوتے ہیں یعنی کہ بالکل ملے ہوۓ ہوتے ہیں فاربڈن گیپ بہت کم ہوتا ہے اور اسی طرح فاربڈن انرجی گیپ بھی بہت کم ہوتا ہے اس لیۓ الیکٹرونز کو ویلنس بینڈ سے کنڈکشن بینڈ میں جانے میں آسانی ہوتی ہے اس کی وجہ فاربڈن انرجی گیپ کا بہت کم ہونا ہے جس کا مطلب ہوا بہت کم انرجی درکار ہوتی ہے الیکٹرانز کو کنڈکشن بینڈ میں جب الیکٹران کنڈکشن بینڈ میں آجاتے ہیں تو اس میٹیریل کو بجلی کنڈکٹ کرنے میں بھی آسانی ہو جاتی ہے
![]() |
| Image credit:Alifbeyilam |
انسولیٹر کا کنڈکشن بینڈ بالکل خالی ہوتا ہے اور اوپر
سے انرجی فاربڈن گیپ بھی بہت ذیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے الیکٹرانز کنڈکشن بینڈ میں نہیں پہنچ پاتے اس لیے انسولیٹر کا کنڈکشن بینڈ خالی ہو گیا اس وجہ سے انسولیٹر میں سے چارجز کا بہاؤ نہیں ہو پاتا۔
![]() |
| Image credit:Alifbeyilam |
سیمی کنڈکٹر میں انرجی فاربڈن گیپ انسولیٹر کی نسبت کم اور کنڈکٹر کی نسبت ذیادہ ہوتا ہے
![]() |
| Image credit:Alifbeyilam |
سیمی کنڈکٹرز میں ویلنس بینڈ اور کنڈکشن میں آدھے الیکٹرانز ہوتے ہیں آدھے الیکٹران سے مراد یہ ہے کہ جتنے بینڈ میں الیکٹرانز آسکتے ہیں اس کے آدھے الیکٹرن ان میں پاۓ جاتے ہیں صفر کیلون کے ٹمپریچر پر کنڈکشن بالکل خالی ہوتا ہے اور سارے الیکٹران ویلنس بینڈ میں ہوتے ہیں اس کا مطلب ہوا کہ صفر کیلون پر سیمی کنڈکٹرز جیسے کہ سلیکان اور جرمینیئم انسولیٹر ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی تھوڑا درجہ حرارت دیتے ہیں تو آدھے الیکٹرون ویلنس بینڈ سے نکل کر کنڈکشن پینڈ میں آ جاتے ہیں الیکٹرون کے لیے ویلنس بینڈ سے کنڈکشن بینڈ میں جمپ کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ انرجی گیپ بہت کم ہوتا ہے الیکٹرون چونکہ کنڈکشن بینڈ میں آجاتے ہیں اس لیۓ اب وہ بجلی بھی کنڈکٹ کر سکتے ہیں


