نظریہ عالم کل یا تھیوری آف ایوری تھنگنظریہ عالم کل سٹرنگ تھیوری یا تھیوری آف ایوری تھنگ ایک ہی نظریۓ کے نام ہیں |
سائنسدان جب قوی تفاعل(سٹرونگ نیوکلیئر فورس) کو پڑھ رہے تھے تو ان کو پتا چلا کہ جو حساب کی مساواتیں انہوں نے بنائ ہیں وہ کسی اور چیز کو نہیں بلکہ ایٹم کی سطح پر کشش ثقل کو بیان کر رہی ہیں ان مساواتوں کو سٹرنگ تھیوری کہا جاتا ہے لیکن ان مساواتوں نے وہ کچھ بتایا جو سائنسدانوں کے لیۓ قابل قبول نہ تھا جن کو میں بعد میں بتاؤں گا لیکن پھر 1973ء میں دو سائنسداوں نے اس پر کام کیا اور اس کو عام فہم بنایا ان سائنسدانوں میں جان شوارز او جیولی شوئرک تھے۔
کائنات کے نظم کو بیان کرنے کے لیۓ سائنسدان دو مختلف نظریات کا سہارا لیتے ہیں بڑے اجسام جیسے کہ زمین یا چاند کی حرکت کو بیان کرنے کے لیۓ ہم آئین شٹائن کے نظریہ اضافیت(تھیوریز آف ریلیٹویٹی) کا سہارا لیتے ہیں جب کہ ایٹم کی سطح پر الیکٹرون کی حرکت کو بیان کرنے لیۓ ہم کوانٹم تھیوری کا سہارا لیتے ہیں سائنسدانوں کی خواہش رہی ہے کہ کائنات کے نظم کو ایک ہی کلیہ سے بیان کیا جاۓ مطلب کہ بڑے اجسام کی حرکت ہو یا ایٹم کی سطح پر الیکٹران کی حرکت ان سب کوایک ہی کلیہ سے بیان کیا جاۓ ہمارے پاس چار بنیادی قوتیں ہیں ان میں سے تین قوتیں ہم جوہری(ایٹمی) سطح پر بیان کر سکتے ہیں لیکن کشش ثقل کو بیان نہیں کیا جا سکا اگر ہم کسی طرح ایٹمی سطح پر کشش ثقل کو بیان کر لیتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی اگر بیان کرنے میں ہم کامیاب ہو جائیں تو شاید کائنات کو بیان کرنے کا ایک ہی کلیہ ہمارے پاس آ جاۓ جبکہ باقی تینوں قوتیں ایٹمی سطح پر بیان کی جاچکی ہیں۔
اگر ہم بڑے اجسام کی حرکت کو کوانٹم مکینیکس کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کریں تو ہمیں تباہ کاریاں ملتی ہیں مثال کے طور پر کوانٹم مکینیکس کے مطابق الیکٹران ایک وقت میں کئ جگہوں پر موجود ہو سکتا ہے اگر اسی قانون کو سورج پر اپلائ کریں تو ہمارے پاس سورج کئ جگہوں پر موجود ہو گا فرض کریں سورج کو تین جگہوں پر رکھ دیں تو ہمارا نظام شمسی تو تباہ ہو جاۓ گا چلیں ایک اور قانون کو دیکھتے ہیں کوانٹم مکینکس کے مطابق اگر ہم ذرات کو دیکھ رہے ہوں تو وہ ذراتی فطرت(پارٹیکل نیچر) کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اگر ہم ان کا مشاہدہ نہ کر رہے ہوں تو وہ موجی فطرت(ویو نیچر) کا مظاہرہ کرتے ہیں اگر اسی قانون کو آپ سورج یا زمین پر اپلائ کریں تو ایسا معمہ آپ کو نہیں ملے گا بلکہ زمین صرف ذراتی فطرت(پارٹیکل نیچر) دکھاۓ گی لہذا کوانٹم تھیوری اور نظریہ اضافیت دو مختلف نظریات ہیں اور ہم کہ سکتے ہیں کہ ایک ہی کائنات میں دو مختلف قوانین چل رہے ہیں یہ بات سائنسدانوں کے لیۓناقابل قبول ہے اور وہ ان دونوں کو اکٹھا کرنا چاہ رہے ہیں لیکن کیا کوئ ایسا زمانہ گزرا ہے جب یہ دونوں نظریات اکٹھے تھے جی ہاں وہ زمانہ بگ بینگ کا پہلا سیکنڈ تھا جب چاروں قوتیں اکٹھی تھیں اس وقت یہ دونوں نظریات اکٹھے تھے لیکن جیسے ہی کائنات پھٹی اور کائنات نے پھیلنا شروع کر دیا اور کشش ثقل باقی قوتوں سے علیحدہ ہو گئ تو ان دونوں نظریات نے اپنی راہیں جدا کر لیں چلیں اسٹرنگ تھیوری کی جانب چلتے ہیں۔
اسٹرنگ تھیوری کے مطابق کائنات کا ہر ذرہ اسٹرنگز سے مل کر بنا ہے یہ اسٹرنگ بلکل سپرنگ کی مانند جو کہ چھوٹے بڑے بھی ہو جاتے ہیں یعنی کہ کمپریس اور ڈی کمپریس بھی ہو جاتے ہیں اور اپنے ایکسز کے گرد بھی حرکت کرتے ہیں بلکل سپرنگ جیسے ہی ہوتے ہیں۔
اسٹرنگ تھیوری کو ثابت کرنے کے لیۓ ہم جان شوارز نے ریاضی کا سہارا لیا فرض کریں کہ
x+y=4
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم یہ مساوت درست ثابت کر کے دکھائیں تو ہمیں ایک اور وائ کی قیمتیں درکار ہوں گی فرض کریں کہ ہماعے پاس ان کی قیمتیں آ جاتی ہیں اور ہم درج کرکے ثابت کر دیتے ہیں کہ واقعی جواب چار آتا ہے تو پھر ثابت ہو جاۓ گا کہ ہماری مساوات ٹھیک ہے جان شوارز نے بھی کچھ ایسا ہی کیا جو جواب اس نے نکالا تھا وہ یہ تھا:
496=496
جان شواز کی مساواتوں میں جواب دونوں طرف یہی آ رہا تھا چونکہ جواب طرفین میں ایک جیسا ہے اس لیۓ اسٹرنگ تھیوری کی مساواتیں بھی ٹھیک ہیں ان میں کسی قسم کی کوئ غلطی نہیں یاد رکھیں کہ کوانٹم مکینکس کی ریاضی بہت مشکل سمجھی جاتی ہے لہذا مساواتیں تو اس کی ٹھیک ہیں لیکن پھر بھی سائنسدان اس نظریۓ کو ماننے سے کتراتے ہیں اس کی وجہ آپ بھی جان لیں گے نیچے اسٹرنگ تھیوری کی وہ باتیں درج ہیں جو کوئ اور نظریہ بیان نہیں کر سکا۔
1.اسٹرنگ تھیوری کہتی ہے کہ اگر آپ کسی کوارک کے اربوں اربوں سطح پر نیچے جا کر دیکھتے ہیں تو آپ کو اسٹرنگز ملیں گے اسٹرنگز کو دیکھنے کے لیۓ آپ کو
10-³⁴m
نیچے جانا ہو گا لیکن ابھی تک ہم اس سطح پر دیکھنے کے قابل نہیں ہوۓ اور اسی نجہ سے اسٹرنگ تھیوری کا تجربہ یا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔
2.اسٹرنگ تھیوری نے ایک اور چونکا دینے والی بات کی ہے وہ یہ کہ کائنات میں ایک ایسے ذرے کا بھی وجود بھی ہے جو سپیڈ آف لائٹ یا روشنی کی رفتار سے ذیادہ تیزی سے حرکت کر سکتا ہے اس ذرے کا نام "ٹیکیون" رکھا گیا ہے اسی بات کی وجہ سے سائنسدان اس نظریئے کو ماننے سے تھوڑے انکاری ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ روشنی کی رفتار سے ذیادہ تیزی سے کوئ ذرہ حرکت نہیں کر سکتا۔
3.تیسری بات جو اسٹرنگ تھیوری نے کہی وہ یہ تھی کہ ایک اور ذرہ بھی وجود رکھتا ہے جس کی کمیت(ماس) صفر ہے اور یہ وہ ذرہ ہے جو جوہری(ایٹمی) سطح پر کشش ثقل کو بیان کر سکتا ہے اس ذرے کا نام "گریویٹان" رکھا گیا اس کا نام بھی گریویٹی کو بیان کرنے کی وجہ سے "گریویٹان" رکھا گیا ہے ایک بات اور وہ یہ کہ یہ کائنات میں پایا جانے والا واحد ذرہ ہے جس کی اسپن "2" ہے۔
4.ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کائنات چار ابعادی(ڈائمینشنل) ہے تین خاص ابعاد یا ڈائیمینشنز جو کہ یہ ہیں
x -x,y -y,z -z
اورچوتھی آئین شٹائن ںے دی تھی جو کہ وقت ہے لیکن اسٹرنگ تھیوری یہ کہتی ہے کہ یہ کائنات چار ابعادی نہیں بلکہ دس ابعادی ہے اس بات کی دلیل کچھ لوگ اس طرح سے دیتے ہیں کہ اگر آپ ایک پتلی سی لکڑی لیں تو آپ کے لحاظ سے وہ دو ابعادی(ٹو ڈائیمینشنل) ہو گی لیکن دیک چیونٹی کے لیے وہ تین ابعادی (تھری ڈائیمینشنل) ہو گی لہذا وہ کہتے ہیں کہ ڈائمینشن موجود ہیں لیکن وہ ہماری نظری سے اوجھل ہیں ہم ان میں دیکھ نہیں سکتے۔
اب تھوڑی بات کرتے ہیں اسٹرنگ تھیوری کی کامیابیوں پر آئین سٹائن کے نظریات بگ بینگ کے آغاز کے وقت ناکام ہو جاتے ہیں لیکن اسٹرںگ تھیوری کامیابی کے ساتھ اس کو بیان کرتی ہے آئین شتائین کے نظریات بلیک ہول میں بھی فیل ہو جاتے ہیں لیکن اسٹرنگ تھیوری یہاں بھی کامیاب رہتی ہے اسٹرنگ تھیوری کی ایک کامیابی یہ بھی ہے کہ ہم ایٹمی سطح پر کشش ثقل بیان نہیں کر پاۓ تھے لیکن اس نظریئے نے ایٹمی سطح پر کشش ثقل کو بھی بیان کر دیا اور اس طرح اسٹرنگ تھیوری نے جوہری سطح پر چاروں قوتوں کو پورا کر دیا۔
5.اسٹرنگ تھیوری نے ملٹی ورس کا تصور بھی دیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنی کائنات میں رہتے ہیں لیکن اس کائنات کے علاوہ کئ اور کائناتیں بھی وجود رکھتی ہیں کیا ہم ان کائناتوں میں سفر کر سکتے ہیں جی بالکل اسٹرنگ تھیوری کے مطابق ہم ایک کائنات سے دوسری کائنات میں جا سکتے ہیں اس کے لیۓ ہمیں ورم ہول سے گزرنا پڑے گا کچھ لوگ کہتے ہیں ورم ہول بلیک ہول ہی ہیں اگر ہم اس سے گزر جاتے ہیں تو ہم ایک نئ کائنات میں پہنچ جائیں گے۔
اسٹرنگ تھیوری کے بارے دلچسپ معلومات:-
- کیا آپ جانتے ہیں اگر ایک ایٹم کا سائز اس کائنات جتنا ہو تو اسٹرنگ کا سائز صرف ایک درخت جتنا ہو گا
- یہ تھیوری ہر چیز کو بیان کر سکتی ہے اس لیۓ لوگوں نے اس تھیوری کا نام تھیوری آف ایوری تھنگ رکھ دیا اردو میں اس کے لیۓ نظریہ عالم کل مستعمل ہے ۔
