ذرات کی تقسیم
ذرات کی دنیا بہت وسیع ہے صرف نصابی کتب تک محدود رہنے والے طلبا سمجھتے ہیں کہ کائنات میں صرف تین ذرے ہیں جو کہ الیکٹرون پروتان اور نیوٹران ہیں لیکن یہ ذرے صرف تین نہیں بلکہ بہت ذیادہ ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ ایٹم صرف ان تین ذرات سے مل کر بنا ہوا ہوتا ہے ان ذرات کی تعداد سینکڑوں میں ہیں جیسے کہ نیوٹرینو،الیکٹرون نیوٹرینو،پائ میزون وغیرہ ان ذرات کی تعداد ایک ہزار سے اوپر ہے بہت ذیادہ وقت نہیں گزرا جب ہم صرف تین ذرات کے متعلق جانتے تھے لیکن پھر ذرات کا جیسے سیلاب امڈ آیا جب کوئ سائنسدان کسی ذرے کو دریافت کرتا تو اس پر کڑی تنقید کی جاتی تھی اس کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا تھا
![]() |
| Image credit:Gemini |
اب چلتے ہیں ذرات سے تعارف کی جانب۔
یہ ذرات اتنے ذیادہ ہیں کہ ہر ایک ذرے کو علیحدہ پڑھنا مشکل ہے اس لیۓ ان کو اقسام میں تقسیم کیا گیا
ہم ذرات کی تقسیم کو تفصیل کے ساتھ دیکھیں گے
اسپن کی بنیاد پر تقسیم:-
ذرات کو ان کی اسپن کی بنیاد پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جو بوسون اور فرمیون ہیں بوسون:-
بوسون وہ ذرات ہیں جو کہ عددی اسپن رکھتے ہیں یا ان کی اسپن ایک مکمل عدد ہے جیسے کہ دو تین یا ایک ان کو مزید اقسام میں بھی تقسیم کیا گیا ہے جو کہ اسپن زیرو بوسون،اسپن ون بوسون اور اسپن ٹو پوسون ہیں زیرو اسپن صرف ایک ہی ذرہ رکھتا ہے جو کہ ہگز بوسون ہے اسپن زیرو بوسون میں صرف یھی ذرہ تایا جاتا ہے اسپن ٹو بوسون میں بھی صرف ایک ہی ذرہ پایا جاتا ہے جو کہ گریویٹان ہے یہ ایک نظریاتی ذرہ ہے اس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ کوانٹم لیول پر یہ ذرہ کشش ثقل کو بیان کر سکتا ہے اسی ذرے کی بنیاد پر سٹرنگ تھیوری بھی پیش کی گئ ہے جس پر ایک علیحدہ بلاگ لکھا جاۓ گا اسپن ون بوسون میں تمام بنیادی قوتوں سے تعلق رکھنے والے اور اسپن ون کے حامل ذرات پاۓ جاتے ہیں اسپن ون بوسون میں گلوآنز،ڈبلیو بوسون،زیڈ بوسون اور فوٹانز ہیں یہ سب کے سب کسی نا کسی فورس کے فورس کیریئرز ہیں
فرمیونز:-
ذرات کی اس قسم میں ایسے ذرات پاۓجاتے ہیں جو نصف عددی اسپن رکھتے ہیں یا ان کی اسپن فریکشنز میں ہوتی ہے جیسے کہ ⅔,½,⅓ وغیرہ الیکٹرون پروٹان اور نیوٹران فرمیونز کی ہی مثالیں ہیں اگر بنیادی ذرات کی بات جاۓ تو صرف بارہ ذرات ہیں جن میں کوارکس اور لیپٹانز شامل ہیں کوارکس میں اپ کوارکس ڈاؤن کوارک چارم کوارک باٹم کوارک سٹرینج کوارک ٹاپ کوارکس شامل ہیں ان کوارکس کے ناموں کا ان کی خصوصیات سے کوئ لینا دینا نہیں جبکہ لیپاٹانڑ میں الیکٹران میوآن ٹاؤ الیکٹران نیوٹرینو میوآن نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو شامل ہیں تمام لیپاٹانڑ بنیادی پارٹیکلز ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ذرات کسی اور ذرے سے مل کر نہیں بنے ذرات کی اس جماعت کا نام ایک سائنسدان "اینریکو فرمی" کے نام پر رکھا گیا ہے یہ وہی سائنسدان ہیں جنھوں نے دنیا کا پہلا نیوکلیئر ری ایکٹر بنایا۔
فرمیونز کی اقسام:-
فرمیونز کو ہم مزید دو اقسام میں تفسیم کر سکتے ہیں جو کہ لیپٹانز اور ہیڈرانز ہیں لیپٹانز کا ذکر میں نے پہلے بھی کیا ہے لیکن اپ ہم ان کو مزید تفصیل کے ساتھ دیکھیں گے۔
لیپٹانز:-
لیپٹانز کی کل تعداد کل چھ ہے جو کہ الیکٹران میوان ٹاؤ الیکٹران نیوٹرینو میوآن نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو شامل ہیں ان کو بنیادی ذرات بھی کہتے ہیں یہ کسی دوسرے ذرے سے مل کر نہیں بنے ہوتے لیپٹانز کے ماس کی اگر بات کی جاۓ تو تمام تینوں نیوٹرینوز(الیکٹران نیوٹرینو،میوآن نیوٹرینو،ٹاؤ نیوٹرینو) کے ماسز ابھی تک جدید طبیعات کا موضوع ہے ان کے ماسز کے بارے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ان کا ماس ہو گا بہی تو بہت کم ہو گا جبکہ بقیہ تینوں لیپٹانز میں سے ٹاؤ کا ماس سب سے ذیادہ ہے جبکہ میوآن کا ٹاؤ سے کم لیکن الیکٹران سے ذیادہ ہوتا ہے جبکہ الیکٹران کا ماس ان تینوں میں سب سے کم ہے ان کے ماسز کو آسانی سے سمجھنے کے لیۓ پروٹان کے ماس سے ان کا تقابلی جائزہ لیں گے پروٹان کا ماس
1.67×10^-27Kg
ہوتا ہے الیکٹران کا ماس پروٹان کے ماس سے اٹھارہ(1800) گنا کم ہوتا ہے جبکہ میوآن کا ماس پروٹان کے ماس سے صرف دس(10) گنا کم ہوتا ہے لیکن ٹاؤ کا ماس پروٹان کے ماس سے دو گنا ذیادہ ہوتا ہے اگر ان کے چارجز کی بار کریں تو تینوں نیوٹرینوز نیوٹرل ہوتے ہیں ان پر کسی قسم کا چارج نہیں ہوتا لیکن الیکٹرون میوآن اور ٹاؤ تینوں چارج رکھتے ہیں اب تھوڑی بات ہو جاۓ ان کی دریافت کی۔
الیکٹران کی دریافت سے تو آپ بخوبی واقف ہوں گے الیکٹران کو 1897ء میں جےجے تھامسن نے دریافت کیا الیکٹران کے بعد دوسرے نمبر پر میوآن دریافت ہوا اس کو 1936ء میں جاپانی سائنسدان ہائیڈیکی یوکاوا نے دریافت کیا الیکٹرون نیوٹرینو کو 1956ء میں دریافت کیا گیا حالانکہ اس کی پیشن گوئ ڈھائ دہائ پہلے ہو چکی تھی اس کی دریافت پر ایک علیحدہ سے بلاگ لکھا جاۓ گا کیونکہ اس ذرے نے سائنسدانوں کو بہت رلایا تھا چوتھے نمبر پر میوآن نیوٹرینو دریافت ہوا تھا اس ذرے کو تین امریکی طبیعات دانوں نے 1962ء میں دریافت کیا "ٹاؤ" کو ایک اور امریکی طبیعات دان نے 1974ء سے لے کر 1977ء تک تجربات کر کے دریافت کیا اس ذرے کی کمیت الیکٹرون کی نسبت 3500 گنا ذیادہ تھی ٹاؤ کی دریافت کے ساتھ ہی یہ مان لیا گیا کہ الیکٹران اور میوآن کی طرح ٹاؤ لیپٹان بھی وجود رکھتا ہے چنانچہ 1990ء میں امریکی فرمی لیب نے ٹاؤ لیپٹان کی موجودگی ثابت کرنے کے لیۓ کام شروع کر دیا اور 2000ء میں باقاعدہ اعلان کیا کہ ٹاؤ لیپٹان کی موجودگی کے مشاہداتی ثبوت ہمارے پاس آ گیۓ ہیں کچھ طبیعات دانوں کا ماننا ہے کہ مزید لیپٹانز بھی دریافت ہو سکتے ہیں۔
ہیڈرانز:-
ہیڈانڑ اور لیپٹانز کے درمیان دو بنیادی فرق بیان کیۓ جا سکتے ہیں پہلا فرق یہ ہے کہ ہیڈانز کوارکس سے مل کر بنے ہوتے ہیں جب کہ لیپٹانز بنیادی ذرات ہیں یہ کسی کوارکس سے مل کر بھی نہیں بنے ہوتے دوسرا فرق یہ ہے کہ ہیڈرانڑ سٹرانگ فورسز کے ذریعے تعامل کرتے ہیں لیکن لیپٹانڑ سٹرانگ فورسز کے ذریعے تعامل نہیں کرتے کوارکس کو بھی مزید دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جو کہ بیریون اور میزونز ہیں بیریون اور میزون کے درمیان دو طریقے سے فرق کیا جا سکتا ہے پہلا یہ ہے کہ اگر کسی ہیڈران کی کمیت پروٹان سے ذیادہ یا برابر ہو تو وہ بیریون کہلاۓ گا اگر کمیت پروٹان سے کم ہو گی تو وہ ذرہ میزون ہو گا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئ ہیڈران طاق کوارکس سے مل کر بنا ہے تو بیریون ہو گا جبکہ جفت کوارکس والا میزون ہو گا۔
پروٹان پر چارج کیسے آ جاتا ہے نیوٹران نیوٹرل کیوں ہے اس سوال کا جواب کوارکس کے چارج کے ساتھ جڑا ہے ایک پروٹان دو اپ کوارکس اور ایک ڈاؤن کوارکس سے مل کر بنا ہوتا ہے یعنی کہ اس طرح:
proton=u+u+d
یہاں پر یو سے مراد اپ کوارک ہے جبکہ ڈی سے مراد ڈاؤن کوارک ہے ایک اپ کوارک پر چارج ⅔e ہوتا ہے جب کہ ڈاؤن کوارک پر چارج -⅓e ہوتا ہے اب ان تینوں کے چارجز کو جمع کریں:
charge on proton=(+⅔+⅔-⅓)e
charge on proton=+1e
یہاں پر آپ دیکھ سکتے ہیں پروٹان پر چارج +1e آیا ہےاسی طرح ایک اور مشہور ہیڈران نیوٹران کا چارچ نکالتے ہیں نیوٹران دو ڈاؤن کوارکس اور ایک اپ کوارک سے مل کر بنا ہوتا ہے یعنی اس طرح:
neutron=d+d+u
نیوٹران پر چارج کچھ اس طرح ہو گا
charge on neutron=(-⅓-⅓+⅔)e
charge on neutron=0e
جواب صفر آیا ہے یعنی کہ نیوٹران پر چارج صفر ہے اس طریقہ کو الیکٹران پر چارج نکالنے کے لیۓ استعمال نہیں کیا جا سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکٹران کوارکس سے مل کر نہیں بنا ہوتا بلکہ ہمارے ابھی تک کے علم کے مطابق الیکٹران ایک پنیادی ذرہ ہے اور یہ کسی دوسرے ذرے سے مل کر نہیں بنا ہوتا۔
