بگ بینگ کیا ہے سٹڈی سٹیٹ تھیوری کیا ہے بگ بینگ کے پہلا سیکنڈ کائنات کیسے وجود میں آئ؟

Anees Ur rehman
0

کائنات کے آغاز کے متعلق دو سائنسی نظریات مشہور ہیں جو کہ سٹڈی سٹیٹ اور بگ بینگ کے نظریات ہیں آئیۓ ان دونوں کی تفصیل دیکھتے ہیں

سٹڈی سٹیٹ تھیوری:

اس مفروضہ کو 1920ء میں جیمز جینز نے میں پیش کیا تھا لیکن اس کو شہرت 1948ء میں اس وقت ملی جب فریڈ ہولے،تھامس گولڈ اور ہرمن بونڈی نے اس پر کام کیا اس مفروضے کے مطابق یہ کائنات ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گی جس کا مطلب ہوا اس کائنات کا نہ تو کوئ آغاز ہے نہ کوی انجام لیکن اس مفروضے کے ساتھ بہت جلد پچاس کی دہائ میں مسائل آنے لگے جب یہ پتا چلا کہ کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں تو یہ مفروضہ رد ہو گیا آج کل اس مفروضے کی جگہ "بگ بینگ" نے لے لی ہے بگ بینگ کو آج کل ایسا مفروضہ سمجھا جاتا ہے جو کائنات کے آغاز کو بیان کر سکتا ہے

بگ بینگ کا نظریہ:
Image credit:Gemini


اس نظریہ کو ایک عیسائیت مزہب کے کیتھولک پادری جارج لیمائرے نے 1920ء میں پیش کیا اس نظریئے کو شہرت اس وقت ملی جب ہبل دوربین سے پتا چلا کہ کہکشائیں اور دوسرے اجرام فلکی آہستہ آہستہ ہم سے دور جا رہے ہیں اصل میں ہبل دوربین نے صرف تصاویر پھیجی تھیں ان تصاویر میں ہمیں کہکشائیں سرخ رنگ کی نظر آئیں یہاں ماہر فلکیات نے طبیعات یا فزکس کے قوانین لگاۓ اگر سرخ رنگ کی کہکشاں ہو گی تو وہ ہم سے دور جا رہی ہو گی اور اگر نیلے رنگ کی ہو گی تو وہ ہماری طرف آ رہی ہو گی اس بات کو ڈاپلر ایفیکٹ سے ثابت کیا جا سکتا ہے آسان الفاظ میں جب کہکشاں ہماری طرف آ رہی ہو گی تو اس کی روشنی کی فریکوینسی بڑھ جاۓ گی جس کی وجہ سے کہکشاں نیلے رنگ کی نظر آۓ گی اور اگر ہم۔سے دور جا رہی ہو گی تو اس کی فریکوینسی کم ہو جاۓ گی جس کی وجہ سے ہمیں کہکشاں سرخ نظر آۓ گی یاد رہے صرف نیلا اور سرخ رنگ صرف مثال کے لیۓ دیا ہے کوئ اور رنگ بھی نظر آ سکتا ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کہکشاں کی اصل روشنی کونسی ہے اور جتنی زیادہ فریکونسی بڑھے گی یار دور جانے کی وجہ سے کم ہو گی اسی حساب سے اسی فریکونسی والی روشنی نظر آۓ گی سرخ روشنی سے معلوم ہوا کہ کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ کبھی یہ کہکشائیں ہمارے نزدیک ہوا کرتی تھیں اور اگر مزید وقت میں پیچھے جائیں تو یہ سب ایک ہی جگہ ایک ہی نقطہ میں ہوتی تھیں یہ نقطہ "نقطہ وحدہ" کہلاتا ہے انگریزی میں اسے پوائنٹ آف سنگولیریٹی کہتے ہیں بگ بینگ کا پورا نظریہ اسی ایک تصور کی بنیاد پر کھڑا ہے اس تصور کو سمجھنے کے لیۓ ایک غبارہ لیں اس غبارے کے اوپر دو واضح نقاط لگا دیں فرض کریں ان دو نقاط کے درمیان 2سم کا فاصلہ ہے اب غبارے میں ہوا بھرتے جائیں غبارہ پھولتا جاۓ گا اب ان دو نقاط کے درمیان فاصلہ ماپیں ان دو نقاط کے درمیان فاصلہ یقینا 2 سم سے زیادہ ہو گا یہاں پر سم سے سینٹی میٹر مراد ہے اسی طریقے سے کائنات میں موجود کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے جس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ غبارے کے دو نقاط کی طرح یہ کہکشائیں بھی کبھی ایک نقطہ ہوا کرتی تھیں اور پھر کسی وجہ سے یہ نقطہ پھٹا اور تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع کر دیا جس کے بعد یہ کائنات وجود میں آئ اور آج پھی یہ کائنات پھیل رہی ہے اس کا ثبوت ہبل دوربین نے دیا ہے۔


سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بگ بینگ کے نظریہ کے مطابق یہ کائنات 13.787 ارپ سال پرانی ہے اس میں 0.02 ارب سال غیر یقینیت بھی ہے یعنی کہ کائنات کی کل عمر یا تو 0.02 ارب سال زیادہ ہے یا کم ہے جبکہ ہمارا نظام شمسی تقریبا 4.57 ارب سال پرانا ہے جبکہ سورج کی عمر 4.6 ارب سال ہے ہماری زمین 4.54 ارب سال پہلے بنی تھی اسی طرح چاند 4.5 ارب سال پہلے بنا2تھا۔
جب بگ بینگ ہوا تھا تو اس وقت کیا ہوا تھا بگ بینگ کے ہونے کے بعد کا پہلا سیکنڈ بہت اہم ہے پہلے سیکنڈ میں کیا کیا ہوا تھا آئیۓ کائنات کے پہلے ثانیے کو تفصیل کے ساتھ دیکھتے ہیں

پہلاثانیہ(سیکنڈ):

10-43

اس وقت کائنات میں صرف ایک ہی قوت موجود ہے کچھ لوگ اسے سپر فورس بھی کہتے ہیں اس کے بعد یہ قوت دو مختلف قوتوں میں ٹوٹتی ہے پہلی کشش ثقل(گریویٹیشن) اور دوسری گرینڈیونیفائڈ فورس ہے گرینڈیونیفائیڈ فورس کے فورس کیریئرز ایکس،ایکس بار،وائ اور وائ بار تھے یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ تعامل(ری ایکشن) کر کے کوارکس اینٹی کوارکس لیپٹانز اور اینٹی لیپٹانز بنا رہے تھے لیکن کوراکس اینٹی کوارکس کے ساتھ اور لیپٹانز اینٹی لیپٹانز کے ساتھ تعامل کر کے دوبارہ ایکس ایکس بار وائ وائ بار بنا رہے تھے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت صرف کائنات پھیل رہی تھی اور اسی وجہ سے کائنات کا درجہ حرارت کم ہو رہا تھا

10-35s

جب وقت یہاں تک پہنچا تو گرینڈیونیفائیڈ فورس الیکٹروویک فورس اور سٹرونگ فورس میں تقسیم ہو گئ اس مرحلہ پر ایکس ایکس بار سمیت دوسرے فورس کئریئر غائب ہو گۓ اور الیکٹروویک فورس کے فورس کیریئر z اور y بوسون نمودار ہوۓ اسی کے ساتھ سٹرونگ فورس کے فورس کیریئر گلوآنز بھی آ گۓ لیکن یہاں ماس کی تخلیق میں اہم کردار ادا کرنے والی ہگز فیلڈ بھی آ گئ ہگز فیلڈ کے بعد ہگز پارٹیکلز بھی آ گۓ ہگز فیلڈ کی وجہ سے کائنات بہت تیزی کے ساتھ پھیلی اس کا اندازاہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ 10^-35 ثانیہ کے وقت کائنات صرف ایک کمرے جتنی تھی جب وقت 10^-32 ثانیہ تک پہنچا تو کائنات اربوں نوری سال جتنی ہو گئ۔

اس کے بعد ہگز ذرات بھی ٹوٹنے لگے اور ان سے نئے ذرات بننے لگے یہ سب ویک فورس اور سٹرونگ فورس کے زیر اثر ہو رہا تھا  اس دور کو انفیلیشن کا نام بھی دیا جاتا ہے یہاں پر ایک مرتبہ پھر پارتیکلز اور ان کے اینٹی پارٹیکلز جنم لیتے ہیں شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ ایک مرتبہ پھر پارٹیکلز اینٹی پارٹیکلز کے ساتھ تعامل کر کے تباہ ہو جائیں گے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو گا یہاں پر ذرات اپنے ضد ذرات پر سبقت لے جاتے ہیں اور زیادہ مقدار میں پیدا ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے  کہ ایسا کیساے ہو سکتا ہے کہ ذرات ضد ذرات کی نسبت زیادہ مقدار میں پیدا ہوں اس کا جواب یہ ہے کہ سٹرونگ فورس اور ویک فورس اپنے تعاملات میں ملتا جلتا رویہ دکھا رہے تھے جیسے کہ دونوں قوتیں قانون بقاۓ توانائ،قانون بقاۓ لینئر مومینٹم،قانون بقاۓ اینگولر مومینٹم وغیرہ کی پیروی کر رہی تھیں لیکن ویک فورس کچھ کوانتم مکینکس کے قوانین کی پیروی نہیں کر رہی تھی جیسا کہ قانون بقاۓ لیپٹان نمبر،قانون بقاۓلیپٹان فلیور،قانون بقاۓ پیریٹی اینڈ چارج کانجوگیشن وغیرہ کی پیروی نہیں کر رہی تھی اس پیروی نہ کرنے کی وجہ سے مادہ وجود میں  آیا اس کی وجہ ذرات ضد ذرات کی وجہ سے زیادہ پیدا ہوۓ ایک اندازے کے مطابق دس کی طاقت انیس اینٹی کوارکس کے لیۓ تقریبا 

1+1019

کوارکس موجود تھے اس نمبر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوارکس اینٹی کوارکس زیادہ تھے اسی وجہ سے کچھ زرات تباہ ہو گیۓ اور کچھ ذرات بچ گیۓ کیونکہ ان کے تعامل کے لیۓ ضد ذرات نہیں بچے انہی ذرات نے مادہ بنایا۔
  ایک اور بات کہ کوارکس آپس میں مل ہیڈران(ایسے ذرات جو کوراکس سے مل کر بنے ہوں جیسے پروٹان یا نیوٹران ہے) بنانے کی کوشش بھی کر رہے تھے لیکن جیسے ہی کوئ ہیڈران بنتا کوئ فورس کیریئر ان پر حملہ کر دیتا اور دوبارہ کوارکس میں تقسیم کر دیتا کیونکہ اس وقت فورس کیریئڑ کے پاس توانائ ذیادہ تھی کہا جاتا ہے کہ 10-¹² سیکنڈ یا ثانیہ تک کوارکس اکیلے رہنے پر مجبور تھے اس کی وجہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں اس کے بعد جب وقت تھوڑا مزید بڑھا تو ہیڈانز جیسے کہ پروٹان اور نیوٹران وجود میں آ گۓ  جب وقت

7×10-7

 سیکنڈ تک پہنچا تو کائنات کا درجہ حرارت گر کر 10¹³ کیلون ہو گیا اس وقت کائنات درجہ بہت تیزی کے ساتھ گر رہا تھا جبکہ کائنات کا موجودہ درجہ حرارت 2.787 کیلون ہے یہاں سے اندازہ لگائیں کہ کائنات کا درجہ کتنی تیزی کے ساتھ کم ہوا  واپس پہلے سیکنڈ کی طرف آتے ہیں اس کے بعد اینٹی پارٹیکلز نے پارٹیکلز کے ساتھ اینائیلیٹ کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے روشنی کے ذرات فوٹانز کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیۓ کہ چونکہ ذرات زیادہ تھے ضد ذرات کی نسبت اس لیۓ کچھ ذرات بچ بھی گۓ۔

    اگر آپ تھوڑا غور کریں تو معلوم ہو گا کہ کائنات میں نیوٹران کی نسبت پروٹان زیادہ ہیں لیکن ایسا کیوں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نیوٹران نے پروٹان،الیکٹران اورنیوٹرینو میں شروع کر دیا ایک اندازے کے مطابق نیوٹران اتنی زیادہ مقدار میں ٹوٹا کہ ایک سیکنڈ کے مکمل ہونے کے بعد فیصد کے حساب پروٹان 82% ہو گۓ اور نیوٹران صرف 18 فیصد رہ گۓ یہاں پر ایک سیکنڈ مکمل ہوا۔

پہلے سیکنڈ میں مختصرا چاروں قوتیں الگ ہوئیں پروٹان الیکٹران اور نیوٹران بنا لیکن کوئ ایٹم نہیں بنا۔

پہلے سیکنڈ کے بعد:

    جب وقت 1.09 ثانیہ تک پہنچا تو کائنات کا درجہ حرارت  مزید گر کر 10^9 کیلون ہو گیا اس وقت نیوٹرینو کے پاس کسی قسم کے تعامل کے لیۓ توانائ نہ بچی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ خاموش ہو گۓ اتنے خاموش کہ آج بھی ہزاروں کی تعداد میں آرپار ہو رہے ہیں کہ ڈیٹیکٹ بھی نہیں ہو پا رہے نیوٹرینوز کی ڈیٹیکشن اتنی مشکل ہے کہ اس کی ڈیٹیکشن میں کئ دہائیاں لگ گئیں۔
   جب وقت تین سیکنڈ تک پہنچا تو کائنات کا درجہ حرارت گر کر 5.9×10^9 کیلون ہو گیا اس درجہ حرارت پر فوٹانز کے پاس اتنی توانائ باقی نہ رہی کہ وہ پیئر پروڈکشن کے ذریعے الیکٹرون اور اس کا ضد ذرہ پوزیٹران بنا سکیں پیئر پروڈکشن وہ عمل ہے جس میں توانائ الیکٹرون اور پوزیٹران میں تبدیل ہوتی ہے یہ عمل آئن سٹائن کی مساوت E=mc² کے مطابق ہوتا ہے یہاں ایک بات اور یاد رکھنی چاہیئے کہ پیئر پروڈکشن ہمیشہ ذرے کے ساتھ اس کا ضد ذرہ بھی پیدا ہوتا ہے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ الیکٹرون تو پیدا ہو جاۓ لیکن پوزیٹران پیدا نہ ہو ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ پیئر پروڈکشن قانون بقاۓ برق(چارج) کی پیروی کرتا ہے اس لیۓ اگر صرف الیکٹرون یا پوذیٹران پیدا ہو تو یہ قانون بقاۓبرق کی خلاف ورزی ہو جاۓ گی لیکن الیکٹرون پوزیٹران آپس میں اینائیلیٹ کرتے رہے لیکن پھر بھی کچھ الیکٹرون بچ گۓ کیونکہ انفیلیشن کے دور میں الیکٹرون ذیادہ پیدا ہوۓ۔

3.2 منٹ تک کسی نیوکلیئس کا وجود نہیں تھا پروٹان اوذ نیوٹران نیوکلیئس تو بناتے تھے لیکن فوٹان نیوکلیئس کو دوبارہ توڑ دیتے تھے لیکن اب چونکہ فوٹانز کے پاس اتنی توانائ نہ بچی اس لیۓ اب نیوکلیئس بن سکتا تھا لہزا پہلا نیوکلیئس کا وجود عمل میں آیا جو کہ ڈیوٹریئم تھا ڈیوٹریئم ہائڈروجن کا آئسو ٹوپ ہے اس میں ایک نیوٹران اور ایک پروٹان ہوتا ہے اس دور میں نہ صرف ڈیوٹریئم بلکہ ہائڈروجن ہیلیئم جیسے عناصر کےنیوکلیئس بھی وجود میں آۓ اس کے ساتھ کچھ دوسرے بھاری عناصر(ایلیمنٹس) کے نیوکلیئس بھی بنے جیسے بیریلیئم اور لیتھیئم بھی بنے اس وقت نیوٹران کے ٹوٹنے کا عمل بھی بند ہو گیا اور نیوٹران تیرہ(13) فیصد بچ گیۓ اور پروٹان ستاسی(87) فیصد ہو گیۓ ایک اندازے کے مطابق ہر دو سو نیوٹران اور پروٹان میں چھبیس پروٹان اور نیوٹران نے ہیلیئم کا نیوکلیئس بنایا مختصرا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کائنات میں چھبیس فیصد ہیلیئم بنا اور آج ہم جانتے ہیں کہ کائنات میں چھبیس فیصد ہیلیئم پایا جاتا ہے یہ بگ بینگ کے سچ ہونے کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔

   اس دور کو نیوکلیو سینتھیسز کہا جاتا ہے 3.2 منٹ سے شروع ہو کر 13 منٹ تک جاری رہتا ہے اس کے بعد تین سال تک کائنات بالکل خاموش ہو جاتی ہے اور کوئ قابل ذکر واقعہ نہیں ہوتا تین لاکھ سال بعد ایٹمز بھی وجود میں آنے لگے اس سے پہلے صرف ان کے نیوکلیئس بنے تھے اور زیادہ تر ہائڈروجن اور ہیلیئم کا ایٹم ہی بنا اس کے بعد کشش ثقل پھر نمودار ہوتی ہے اور ایٹمز کو ایک جگہ پر مرکوز کر دیتی ہے جس سے ستارہ وجود میں آتا ہے جب کشش ثقل ان کو ایک جگہ پر اکٹھا کرتی ہے اسی دوران ایٹمز کے آپس میں بہت زیادہ سپیڈ سے ٹکرانے کی وجہ سے نیوکلیئر تعاملات شروع ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں کاربن آئرن اور دوسرے ایٹمز وجود میں آتے ہیں یہ ستارہ اپنی عمر پوری کرتا ہے اور پھر تباہ ہو کر بکھر جاتا ہے جس کے بعد سیارے وجود میں آنے لگتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور آج بھی یہ سلسہ چل رہا ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)