میں جنگ کا حامی نہیں لیکن انسان کی ایک تاریخی اور نفسیاتی حقیقت آپ کے سامنے ہے!!!!!
انسان کی بنیادی ڈرائیو جو اسے ہر کام(اولاد پیدا کرنا،خاندان بنانا،روزی کمانا اور اس کے لیے مصیبتیں جھیلنا) وہ بقا ہے اور انسان کی بقا پر جب بھی بات ہے وہ بہت زیادہ حساس ہو جاتا ہے اسی لیے جنگوں میں انسان نے وہ کام کیے ہیں جو زمانہ امن میں وہ کام نہیں کر سکا۔جنگ عظیم اول اور دوم میں بہت سی نئی ایجادات اسی وجہ سے ہوئیں کہ بقا کو خطرہ تھا جیسے کہ کھاد۔یہ جرمنی کی ایجاد ہے اور شاید جنگ عظیم دوم میں ایجاد ہوئ تھی۔
اس کو ایک اور طریقے سے سمجھنے کی کوشش کریں یعنی کنفیوشس کی عینک سے۔ان کا کہنا تھا کہ انسان کے اندر دو قسم کی فورسز موجود ہیں ایک منفی اور دوسری مثبت لیکن مسئلہ یہ ہے مثبت فورس اتنی پھرتی نہیں دکھاتی جتنی منفی فورس دکھلاتی ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ منفی جزبات ہمیشہ خالص ہوتے ہیں۔
لیکن پھر بھی جنگ ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے جو نئی ایجادات کا باعث بنتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ بھی بہت سے ماضی قریب کی فیکٹرز کرتے ہیں۔آخر میں ایک بات کہ جنگیں نہیں ہونی چاہئیں ایک تو یہ انسانیت کا ضیاع ہے دوسرا ہم جس مقصد کے لیے جنگ کرتے ہیں یعنی بقا کے لیے وہ کبھی پورا نہیں ہو سکتا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک ملک پر حملہ کر دیں اور اس کے بعد وہ آپ کی بقا کا خطرہ نہ بنے۔
