پیمائش-1(سسٹم انٹرنیشنل)
کسی فطرت کے قانون کو بیان کرنے کے لیے ہمیں پیمائش کی ضرورت ہوتی یے۔اور پیمائش فزیکل مقدار کے ساتھ جڑی یے جیسے کہ کسی جسم کی لمبائ۔فزکس کے قوانین انھی فزیکل مقداروں کے آپس میں ریلیشن سے بنتے ہیں مثال کے طور پر پوری کی پوری میکانیات میں وقت،ماس اور لمبائ بنیادی مقدار میں اور ان کے آپس میں ریلیشن سے ہی ولاسٹی،ایکسلریشن فورس یا مومینٹم نکلتا یے۔
اگر ہم کوئ فطرت کا قانون بنا ریے ہیں تو فطرت کے اس قانون کو ہر ایک انسان کے لیے ہر جگہ پر ایک جیسا ہونا چاہئے اور اگر ہمیں اس قانون کو ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے کو اپنی پیمائش بتانی ہو تو کیسے بتائیں گے؟؟
اس کے لیے ہمارے پاس مشترکہ سٹینڈرڈز ہونے چاہئیں جن کی بنیاد پر میں دوسرے کو بتاؤں اور وہ یقین کر لے مثلا میں اس سے کہوں کہ ایک میٹر لمبائ اتنی ہوتی ہے یہ ہمارا سٹینڈرڈ یے اور ہھر اس سے کہوں اس دیوار کی اونچائ دو میٹر یے تو اسے سمجھ آ جاۓ گی۔
اس کا مطلب ہے ہم دونوں کا سٹینڈرڈز ایک ہی ہونے چاہییں تبھی ہم ایک دوسرے کی پیمائش کو سمجھ سکیں گے اگر ہمارا میٹر اس کے ڈیڑھ میٹر کے برابر ہوتا تو کیا وہ ہماری بات سمجھ پاتا؟؟
اسی کیے سائنسدانوں نے پوری دنیا میں ایک جیسے سٹینڈرڈز سیٹ کرنے کے لیے 1960 میں کانفرنس بلائ جس میں تمام فزیکل مقداروں کے سٹینڈرڈز سیٹ کیے گئے جو اب پوری دنیا میں استعمال یو رہے ہیں۔ان کو اب SI(System international) کہا جاتا ہے۔
فزیکل مقداریں:یہ ایسی مقدرایں ہوتی ہیں جن کی پیمائش کی جا سکتی یے جیسے ماس،لمبائ اور وقت وغیرہ باقی ساری مقداریں انھی سے مل کر بنی ہیں جیسے نیوٹن یا جول وغیرہ۔
پیمائش کا سسٹم،انٹرنیشل سائنٹفک کانفرنس جس میں مختلف مقداروں کے سٹینڈرڈز کا فیصلہ ہوا۔
December 18, 2024
0
