Aurora کیسے بنتا ہے؟؟
کل سولر فلئیرز کی وجہ سے یورپی ممالک میں خوبصورت نظارے دیکھے گئے ہیں ایسا زمین کی میگنیٹک فیلڈ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
سولر فلئیرز میں سورج بہت ذیادہ پارٹیکلز خارج کرتا ہے جن میں زیادہ تر الیکٹران اور پروٹان ہوتے ہیں یہ چارجڈ پارٹیکلز جب زمین کی کی میگنیٹک فیلڈ سے عموداً ٹکراتے ہیں تو فیلڈ انہیں ٹریپ کر لیتی ہے یعنی یہ فیلڈ لائنز کے ساتھ ہی حرکت شروع کر دیتے ہیں۔جب یہ حرکت کرتے ہیں تو زمین کے ایٹماسفیئر میں موجود مختلف گیسز سے ٹکراتے ہیں اس ٹکراؤ سے روشنی پیدا ہوتی ہے۔
اگر یہ چارجڈ پارٹیکلز آکسیجن کے ساتھ ٹکراتے ہیں تو سبز روشنی پیدا کرتے ہیں اور نائیٹروجن کے ساتھ ٹکرانے سے پنک روشنی پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان میں auroras کیوں نظر نہیں آتے؟؟
ایروراز چارجڈ پارٹیکلز کی زمین کی میگنیٹک فیلڈ کے ساتھ عموداً انٹریکشن سے پیدا ہوتے ہیں زمین کی میگنیٹک فیلڈ پولز پر سٹرانگ ہوتی ہے اور ایکوایٹر( equator)پر کمزور۔
ایکویٹر پر زمین کی میگنیٹک فیلڈ پولز کی نسبت آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے اور جب سولر فلئیر چارج پارٹیکلز کی بوچھاڑ کرتا ہے تو ان کی تعداد پولز پر زیادہ ہوتی ہے اور ایکوایٹر پر کم۔پولز پر پارٹیکلز کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ گیسز کے مالیکیولز سے ٹکراتے ہیں اور زیادہ فوٹانز خارج ہوتے ہیں جبکہ ایکوایٹر پر پارٹیکلز بہت کم ہوتے ہیں اسی لیے گیسز کے مالیکیولز کے ساتھ ٹکرا کر کم فوٹانز یعنی روشنی خارج کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جو ممالک پولز کے قریب ہیں ان میں auroras دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ آسٹریلیا،نیوزیلینڈ،کینیڈا اور ان جیسے دوسرے ممالک میں یہ صاف دکھائی دیتا ہے اور جو ممالک ایکوایٹر کے نزدیک ہیں ان میں کم ایکوایٹر کے نزدیک ممالک میں پاکستان،انڈیا،عرب ممالک اور کئی دوسرے ملک ہیں۔
