انسان ہمیشہ سے ہی چاہتا ہے کہ ایسی مشینیں تیار کرے کہ جن کی ایفی شینسی 100 فیصد ہو لیکن ابھی تک ناکام ہے ایفی شینسی سے مراد یہ ہے کہ ہم کسی بھی آلے کو جتنی بھی توانائ دیں اتنی ہی توانائ ہمیں حاصل ہو جیسے کہ کنڈکٹر کو بجلی کی صورت میں توانائ دیتے ہیں لیکن آؤٹ پٹ میں توانائ کم دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے آلات بجلی پر چلتے ہیں اور بجلی کو منتقل کرنے کے لیۓ کنڈکٹر استعمال ہوتے ہیں لیکن ان کی ایک خامی یہ ہے کہ یہ بہت سی توانائ کو ضائع کر دیتے ہیں کیونکہ ان کی رزسسٹنس بہت ذیادہ ہوتی ہے
سپر کنڈکٹر ایسا کنڈکٹر ہوتا ہے جس کی رزسسٹنس صفر ہو ایسا درجہ حرارت جس پر کسی کنذکٹر کی رزسسٹنس صفر ہو جاۓ کریٹیکل ٹمپریچر کہلاتا ہے۔
جب کسی تار میں سے کرنٹ گزرتا ہے تو رزسسٹنس کی وجہ سے بہت ساری توانائ حرارت کی شکل میں ضائع ہو جاتی ہے اور اس توانائ کو استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا اس لیۓ سائنسدان چاہتے ہیں کہ ایسا کنڈکٹر بنایا جاۓ جس میں توانائ ضائع کیۓ بغیر کرنٹ بہ سکے اس کے لیۓ کنڈکٹر کو باریک سطح پر دیکھنا ہو گا رزسسٹنس کسی بھی کنڈکٹر میں اس لیۓ ہوتی ہے کہ اس میں موجود ایٹمز توانائ ذیادہ ہونے کی وجہ سے وائبریٹ کرتے ہیں جب کوئ الیکٹران گزرنے لگتا ہے تو وہ اس سے ٹکرا جاتے ہیں اس ٹکرؤ کی وجہ سے توانائ ضائع ہوتی رہتی ہے لہذا رزسسٹنس کو صفر کرنے کے لیۓ کنڈکٹر کے ایٹمز کی وائبریشن کو صفر کرنا ہو گا اس کام کے لیۓ ہمیں درجہ حرارت کم کرنا ہو گا درجہ حرارت کم کرنے سے ایٹمز کی توانائ بہت کم ہو جاتی ہے توانائ کم ہونے کی وجہ سے ایٹمز کی وائبریشن کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے رزسسٹنس بھی صفر ہو جاتی ہے لیکن یہ درجہ حرارت اتنا کم ہے کہ اس درجہ حرارت پر ہم ان سے کام نہیں لے سکتے۔
سب سے پہلے تیار ہونے والا سپر کنڈکٹر 1911ء میں بنا یہ سپر کنڈکٹر کوئ اور نہیں مرکری تھا اس کو دریافت کمائرلنگز اورنز نے کیا اس کا کرٹیکل ٹمپریچر 4.2 کیلون ہے ڈگری سینٹی گریڈ میں -268.95 ہے اس سے انداذہ لگا لیں کہ کہ یہ درجہ حرارت کتنا کم ہے مزید دریافت ہونے والے سپر کنڈکٹر میں ایلو مینیم،لیڈ اور ٹِن ہے ایلومینیم کا کریٹیکل ٹمپریچر 1.18 کیلون ہے لیڈ کا کریٹیکل ٹمپریچر تقریبا 7.2 کیلون ہے اس کے علاوہ ٹِن کا کریٹیکل ٹمپریچر 3.72 کیلون ہے۔
لیکن 1986ء میں ایک اور کلاس دریافت ہوئ جو 125 کیلون کے ٹمپریچر سپر کنڈکٹر بن جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ان کد کریٹیکل ٹمپریچر 125 کیلون ہے اگر کسی سپر کنڈکٹر کا کریٹیکل ٹمپریچر 77 کیلون سے ذیادہ ہو تو اسے ہائ ٹمپریچر سپر کنڈکٹر کہتے ہیں۔
چند سال پہلے ایک سپر کنڈکٹر دریافت ہوا ہے جس کا نام یٹریئم پیریم کاپر آکسائڈ (YBa₂Cu₃.O₇) ہے اس کا کریٹیکل ٹمپریچر 163 کیلون ہے ڈگری سینٹی گریڈ میں -110 ڈگری سینٹی گریڈ ہے اس کو پروفیسر یاؤ لیان لی نے دریافت کیا یہ کیمبریج یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔
اس کے علاوہ حال ہی میں ایک اور سپر کنڈکٹر دریافت ہوا ہے جو کہ روم ٹمپریچر پر رہ سکتا ہے اس کا کریٹیکل ٹمپریچر تقریبا 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے لیکن اس کا اتنا چرجہ نہیں ہوا حالانکہ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ٹمپریچر تو کم کر دیا ہے لیکن اس کو بہت ذیادہ پریشر پر تیار کیا گیا اسی وجہ سے اس کو اتنی شہرت نہیں ملی۔
امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی ایک ایسا سپر کنڈکٹر تیار ہو جاۓ گا جو روم ٹمپریچر پر ہو گا اور عام استعمال میں بھی لایا جا سکے گا اگر ایسا ہو جاۓ تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
